ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، جن کے ساتھ میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ بھلائی کرتا ہوں اور وہ میرے ساتھ برا رویہ رکھتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ تحمل سے کام لیتا ہوں اور وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر تم ویسے ہی ہو، جیسا تم نے بتایا ہے، تو گویا تم انھیں گرم گرم راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اس حالت پر رہو گے، اللہ کی طرف سے تمھارے ساتھ ایک مددگار متعین رہے گا"۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح
ایک شخص نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے یہاں آکر شکایت کی کہ اس کے کچھ رشتے دار ہيں، جن کے ساتھ وہ اچھا سلوک کرتا ہے اور وہ اس کے ساتھ برا سلوک کرتے ہيں۔ وہ رشتہ جوڑتا ہے اور اس کے رشتے دار کاٹتے ہيں۔ وہ بھلا کرتا ہے اور اس کے رشتے دار برا کرتے ہيں۔ وہ بردباری دکھاتا ہے اور درگزر سے کام لیتا ہے اور اس کے رشتے دار جہالت آمیز برتاؤ کرتے ہيں۔ ایسے میں اس کی جانب سے صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے یا نہیں؟
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اگر تیری بات درست ہے، تو تم انھیں خود ان کی نظر میں رسوا اور ذلیل کر رہے ہو گویا کہ تو انھیں گرم راکھ کھلا رہا ہے۔ کیوں کہ تم کثرت سے ان پر احسان کر رہے ہو اور وہ اپنے تئیں بد عملی کر رہے ہیں۔ جب تک تو ان پر احسان کرنے کی اپنی اس روش پر قائم رہے گا اور وہ تیرے ساتھ بدسلوکی کی اپنی روش پر قائم رہيں گے، اللہ کی جانب سے ان کے خلاف ایک معاون اور تجھے ان کی ایذا رسانیوں سے بچانے کے لیے ایک محافظ تیرے ساتھ لگا رہے گا۔
فوائد
بدسلوکی کا مقابلہ احسان سے کرنے میں برے شخص کا حق کی طرف پلٹنے کا امکان ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: ’’ برائی کو بھلائی سے دفع کرو پھر وہی جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی ہے ایسا ہو جائے گا جیسے دلی دوست۔‘‘
اللہ کے حکم کی بجا آوری، خواہ اس راہ میں اذیتوں کا سامنا ہی کیوں نہ کرنا پڑے، ایک مومن کے لیے اللہ کی مدد کے حصول کا سبب ہے۔
قطع رحمی دنیا کے اندر عذاب و تکلیف اور آخرت میں گناہ اور سخت حساب کا باعث ہے۔
مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے اچھے اعمال میں ثواب کى امید رکھے اور کسی کی ایذا رسانی اور قطع رحمی کی وجہ سے اپنی اچھی عادت سے دست کش نہ ہو۔
اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ نہيں ہے، جو صلہ رحمی کے بدلے میں صلہ رحمی کرتا ہے۔ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ اس سے رشتہ توڑا جائے اور وہ جوڑے۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1982) (2558).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (9/ 220).
بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 698).
نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 539).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 188).
عن جُبَير بن مُطْعِم رضي الله عنه أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ».
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کہتے ہوئے سنا: "رشتے ناتے کو کاٹنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ جس نے اپنے رشتے داروں سے ان کے واجب حقوق روک دیے، ان کو تکلیف دی یا ان کے ساتھ برا سلوک کیا، وہ اس بات کا حق دار ہے کہ جنت میں کبھی داخل نہ ہو۔
فوائد
رشتے ناتے کو کاٹنا کبیرہ گناہ ہے۔
صلہ رحمی عام عرف کے مطابق کی جائے گی۔ اس کی نوعیت جگہ، وقت اور اشخاص کے بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
صلہ رحمی زیارت، صدقہ، اچھے برتاؤ، بیمار کی مزاج پرسی، بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے وغیرہ سے ہوتی ہے۔
قطع رحمی جس قدر قریبی رشتے دار کی ہوگی، گناہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔
حوالہ
صحيح مسلم (4/ 1981) (2556).
صحيح البخاري (8/ 5) (5984).
شرح النووي على مسلم (16/ 113).
منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (10/ 90).
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (6/ 277).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com