سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

الفاظ کے مفاہیم اور استنباط کی کیفیت

3 احادیث

ہمیں جنازہ کے ساتھ چلنے سے روکا گیا ہے، لیکن ہم پر اس میں سختی نہ کی گئی۔

عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا.
ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے منع کیا گیا تاہم اس سلسلے میں سختی نہیں کی گئی۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا شمار جلیل القدر صحابیات میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا بتا رہی ہیں کہ نبی ﷺ نے عورتوں کو جنازوں کے ساتھ جانے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں بہت رقت قبلی اور نرمی ہوتی ہے۔ ان کے پاس مردوں کی طرح صبر کرنے اور مصائب کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ چنانچہ ان کے جنازوں کے ساتھ جانے کی وجہ سے وہ جزع فزع کریں گی اور جنازے کو اٹھانے اور پھر اسے دفنا کر واپس آنے کو دیکھ کر وہ آزمائش میں مبتلا ہوں گی۔ اس کے باوجود ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے قرائن سے یہ بات سمجھی کہ نبی ﷺ نے بہت سختی کے ساتھ یہ ممانعت نہیں کی تھی۔ گویا کہ نبی ﷺ اس جانے کو عورتوں کے لیے حرام قرار نہیں دے رہے تھے۔ تاہم صحیح بات یہی ہے کہ عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانا ممنوع ہے۔ ابن دقیق العید رحمہ اللہ کہتے ہیں ’’بہت سی ایسی احادیث آئی ہیں جو اس حدیث سے زیادہ سختی کے ساتھ عورتوں کے جنازوں کے ساتھ جانے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہیں‘‘۔

حوالہ

صحيح البخاري (2/ 78) (1278). صحيح مسلم (2/ 646) (938). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص285). تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، لابن عثيمين (2/ 366).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیا سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو (اور بے جا سوالات نہ کرو)؛ کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں (غیر ضروری) سوالات کرنے اور اپنے انبیا سے اختلاف كرنے کی وجہ سے تباہ ہو گئیں۔ چنانچہ جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو تم اس سے دوری اختیار کرو اور جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے طاقت بھر بجا لاؤ۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نےفرمایا کہ شرعی احکام کی تین قسمیں ہيں: وہ احکام جن سے خاموشی برتی گئی ہے، نواہی، اوامر۔ جہاں تک پہلی قسم یعنی ان احکام کا تعلق ہے، جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے، کوئی حکم وارد نہيں ہوا ہے، تو یاد رہے کہ اشیا میں اصل عدم وجوب ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وجوب یا تحریم نازل نہ ہو جائے، کسی ایسی چيز کے بارے میں سوال نہ کرنا ضروری تھا، جو سامنے نہ آئی ہو۔ کیوں کہ اللہ نے بندوں پر رحمت کے طور پر اسے چھوڑ رکھا تھا۔ لیکن آپ کی وفات کے بعد سوال اگر فتوی لینے یا دین کے ضروری مسائل کا علم حاصل کرنے کے ارادے سے کیا جائے، تو نہ صرف یہ کہ جائز، بلکہ مامور بہ ہے۔ لیکن سوال اگر تعنت اور تکلف کے طور پر ہو، تو اس حدیث کی رو سے اس طرح کا سوال کرنا منع ہوگا۔ کیوں کہ اس طرح کا سوال بالآخر اسی طرح کی صورت حال پیدا کر سکتی ہے، جو بنی اسرائیل کے لیے پیدا ہوئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ ان کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایسے میں اگر کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے، تو حکم کی تعمیل ہو جاتی، لیکن انھوں نے بال کی کھال نکالنی شروع کی، تو ان کے لیے راہ تنگ ہوتی جلی گئی۔ دوسری قسم منہیات کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے چھوڑنے والے کو ثواب ملے گا اور کرنے والے کو سزا ہوگی۔ لہذا اس طرح کے کاموں سے دور رہنا واجب ہے۔ تیسری قسم اوامر کی ہے۔ یعنی وہ کام جن کے کرنے والے کو ثواب ملے گا اور چھوڑنے والے کو سزا۔ اس طرح کے کاموں کو، جب تک قدرت ہو، کرنا واجب ہے۔

فوائد
  1. انسان کو ایسے کام میں مشغول ہونا چاہیے، جو زیادہ اہم ہو اور جس کی ضرورت ہو۔ ایسے کاموں سے دامن کش رہنا چاہیے، جن کی فی الحال ضرورت نہ ہو۔ اسی طرح جو چیز پیش نہ آئی ہو، اس کے بارے میں مسئلہ بھی نہيں پوچھنا چاہیے۔
  2. مسائل کو پیچیدہ کر دینے والے اور شبہات کا دروازہ کھولنے والے ایسے سوالات کرنا حرام ہے، جو کثرت اختلاف کا سبب بنتے ہوں۔
  3. تمام منہیات کو چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے، کیوں کہ انھیں چھوڑنے میں کوئی مشقت نہيں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے نہی عام ہے۔
  4. جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، انھیں کرنے کا حکم استطاعت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کیوں کہ انھیں کرنے میں کبھی مشقت ہوتی ہے یا انہیں کبھی کرنے سے انسان عاجز ہوتا ہے ہے۔
  5. کثرت سوال کی ممانعت۔ علما نے سوال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلی قسم میں دین کے ضروری مسائل سے جڑے ہوئے ایسے سوالات آتے ہیں، جن کا مقصد سیکھنا ہو۔ اس طرح کا سوال کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور صحابہ کے سوالات اسی نوع کے ہوا کرتے تھے۔ دوسری قسم میں ایسے سوالات آتے ہیں، جو تعنت اور تکلف کے طور پر کیے جائيں۔ اس طرح کا سوال کرنا منع ہے۔
  6. اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
  7. کثرت سے غیر ضروری سوال اور انبیا سے اختلاف ہلاکت کا سبب ہے۔ خاص طور سے ان امور سے متعلق، جن تک پہنچنا ممکن نہ ہو۔ جیسے غیب کے مسائل، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور قیامت کے دن کے احوال۔
  8. مشکل مسائل کے بارے میں پوچھنے کی ممانعت۔ اوزاعی کہتے ہيں : جب اللہ بندے کو علم کی برکت سے محروم کرنا چاہتا ہے، تو اس کی زبان پر بہت ساری غلط باتیں ڈال دیتا ہے۔ اس طرح کے لوگوں کو آپ ىسب سے کم علم پائیں گے۔ ابن وہب کہتے ہيں: میں نے امام مالک کو کہتے ہوئے سنا: علمی جھگڑے آدمی کے دل سے علم کا نور لے جاتے ہیں۔
حوالہ

صحيح البخاري (9/ 94) (7288). صحيح مسلم (2/ 975) (1337). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 236). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 181). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (2/ 268).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما نهيتكم عنه فاجتنبوه، وما أمرتكم به فأْتُوا منه ما استطعتم، فإنما أَهلَكَ الذين من قبلكم كثرةُ مسائلهم واختلافهم على أنبيائهم».
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں جس بات سے تمہیں منع کروں اس سے اجتناب کرو اور جس بات کا حکم دوں اسے مقدور بھر سر انجام دو۔ تم سے پہلی امتوں کی ہلاکت کا سبب ان کا بہت زیادہ سوالات کرنا اور ان کی اپنے انبیاء کی مخالفت کرنا بنا تھا“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رسول اللہ ﷺ نے ہماری رہنمائی کی اور فرمایا کہ جب آپ ﷺ ہمیں کسی چیز سے منع کردیں تو ہم پر لازم ہے کہ ہم بلا استثناء اس سے اجتناب کریں اور جب آپ ﷺ ہمیں کسی شے کے کرنے کا حکم دیں تو ہم پر واجب ہیں کہ ہم مقدور بھر اسے سر انجام دیں۔ پھر آپ ﷺ نے ہمیں اس بات سے ڈرایا کہ ہم سابقہ امتوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہوں نے اپنے انبیاء سے بہت زیادہ سوالات کیے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے ان کی مخالفت بھی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاکت و بربادی کے مختلف قسم کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ ہم ان کی طرح نہ ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم بھی ویسے ہی ہلاک ہو جائیں جیسے وہ ہوئے۔

فوائد
  1. اوامر کی بجا آوری اورنواہی سے بچنے کا حکم۔
  2. نہی کے ارتکاب کی ذرا بھی اجازت نہیں دی گئی ہے، جب کہ امر کو استطاعت کے ساتھ مقید کردیا گیا ہے، کیوں کہ آدمی ترک کی قدرت رکھتا ہے اور فعل کے لیے مامور بہ کام کو انجام دینے کی قدرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
  3. زیادہ سوال کرنے کی ممانعت۔ علما نے سوال کی دوقسمیں کی ہیں: ایک، جو دین کی ضروری بات سیکھنے کےلیے ہو۔ یہ ماموربہ ہے۔ صحابۂ کرام کے سوالات اسی نوع کے ہوتے تھے۔ دوسری جو بہ طور تکلّف اور پریشان کرنے کے لیے ہو۔ اسی سے روکا گیا ہے۔
  4. اس امّت کو سابقہ قوموں کی طرح اپنے نبیﷺ کی مخالفت میں پڑنے سے متنبہ کیا گیا ہے۔
  5. کسی چیز کی ممانعت میں اس کا قلیل اور کثیر دونوں شامل ہوتا ہے۔ کیوں اس سے (مکمل طور پر) اسی وقت بچا جاسکتاہے، جب اس کے کم اور زیادہ مقدار دونوں سے بچاجائے۔ مثال کے طورپر ہمیں سود سے منع کیا گیا ہے، تو اس میں اس کی کم اور زیادہ مقدار دونوں شامل ہوگی۔
  6. حرام تک پہنچانے والے اسباب کو چھوڑدینا چاہیے، اس لیے کہ یہ اجتناب کے معنیٰ میں داخل ہے۔
  7. انسان صاحب استطاعت اور قدرت والا ہے، کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "مَا استَطَعْتُمْ" جتنی تمہیں طاقت ہو۔ چناںچہ اس میں جبریہ کی تردید ہے، جو کہتے ہیں کہ انسان کے پاس کوئی استطاعت نہیں ہے اور وہ عمل پر مجبور ہے، یہاں تک کہ انسان گفتگو کے وقت اپنے ہاتھ سے جو حرکت کرتا ہے، ان کے قول کے مطابق ہاتھ کی وہ حرکت بھی اس کی استطاعت میں نہیں ہے۔ وہ بالکل مجبور ہے۔ بلاشبہ یہ باطل قول ہے، جس پر بڑے مفاسد مرتب ہوتے ہیں۔
  8. کسی انسان کے لیے مناسب نہیں کہ جب وہ رسولﷺکا حکم سنے توکہےکہ کیا یہ واجب ہے یا مستحب؟ کیوں کہ آپ کا فرمان ہے: "فَأْتُوا مِنْهُ مَا استَطَعْتُمْ". یعنی تم اس میں سے اپنے مقدور بھر سر انجام دو۔
  9. نبیﷺ جس بات کا حکم دیں یا جس سے منع فرمائیں، وہ شریعت ہے، خواہ وہ قرآن میں ہو یا نہ ہو۔ لہذا سنت سے ثابت ان اوامر اور نواہی پر بھی عمل کیا جائے گا، جو قرآن میں نہیں ہیں۔
  10. زیادہ سوال کرنا ہلاکت کا سبب ہے، بالخصوص ایسی باتوں کے بارے میں جن کا جان پانا ممکن نہ ہو، جیسے اللہ کے اسما و صفات اور قیامت کے احوال۔ ان کے بارے میں زیادہ سوال نہ کرو، ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور تمھارا شمار غلو کرنے والوں ہوگا۔
  11. گزشتہ امتیں کثرت سوال اور اپنے انبیا کے بارے میں زیادہ اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوگئیں۔
حوالہ

-التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثًا النووية، مطبعة دار نشر الثقافة، الإسكندرية، الطبعة: الأولى، 1380 هـ. -شرح الأربعين النووية، للشيخ ابن عثيمين، دار الثريا للنشر. -فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، دار ابن القيم، الدمام المملكة العربية السعودية، الطبعة: الأولى، 1424هـ/2003م. -الفوائد المستنبطة من الأربعين النووية، للشيخ عبد الرحمن البراك، دار التوحيد للنشر، الرياض. -شرح الأربعين النووية، للشيخ صالح آل الشيخ، دار الحجاز، الطبعة: الثانية، 1433هـ. -الأربعون النووية وتتمتها رواية ودراية، للشيخ خالد الدبيخي، ط. مدار الوطن. -الجامع في شروح الأربعين النووية، للشيخ محمد يسري، ط. دار اليسر. -صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. -صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، نشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com