سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

کیا میں تمھیں نہ بتاوں کہ سب سے اچھا گواہ کون ہے؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے

عن زيد بن خالد الجهني أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «ألا أُخبِرُكُم بخير الشُّهَدَاء الذي يَأتي بِشَهادَتِهِ قبل أن يُسْأَلَهَا».
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "کیا میں تمھیں نہ بتا دوں کہ سب سے اچھا گواہ کون ہے؟ وہ جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں سب سے اچھا گواہ اسے کہا گيا ہے، جو گواہی طلب کرنے سے پہلے گواہی دے۔ یہ دحدیث دراصل اس کے ایک بہترین انسان ہونے اور حقوق کو پامال ہونے سے بچانے کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے اقدام کے استحسان کی دلیل ہے۔ لیکن یہ حدیث اس حالت پر محمول ہوگی، جب صاحب حق اس گواہی سے واقف نہ ہو یا بھول گیا ہو۔ ایسی صورت میں گواہ کے لیے گواہی درج کرانے کے لیے آگے بڑھنا مشروع ہے۔ گرچہ اس سے گواہی طلب نہ کی گئی ہو۔ دراصل یہ سب سے بہتر صورت ہے اس حدیث کے اور ان حدیثوں کے بیچ تطبیق کی، جن کے اندر بن بلائے گواہی دینے کی مذمت کی گئی ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان - طبعة دار ابن الجوزي - الطبعة الأولى 1428. توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي - مكة المكرمة - الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، المؤلف: محمد بن علي بن آدم بن موسى الإثيوبي الوَلَّوِي، دار المعراج الدولية للنشر و دار آل بروم للنشر والتوزيع الطبعة: الأولى، 1416 هـ - 1996 م. سبل السلام ، المؤلف محمد بن إسماعيل الصنعاني، دار الحديث، بدون طبعة وبدون تاريخ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
شہادتیں/ گواہیاں

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com