رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل طعن رجلًا بِقَرْنٍ في رِجْلِهِ، فقال: يا رسول الله، أَقِدْنِي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : "لا تعجل حتى يبرأ جرحك"، قال: فأبى الرجل إلا أن يَسْتَقِيدَ، فَأَقَادَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم منه، قال: فَعَرَجَ المُستَقيدُ، وبَرأ المُستقادُ منه، فأتى المُستَقِيدُ إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فقال له: يا رسول الله، عَرَجْتُ، وبَرَأَ صاحبي؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : "ألم آمرك ألا تستقيد، حتى يبرأ جرحك؟ فعصيتني فأبعدك الله، وبطل جرحك" ثم أمر رسول الله -صلى الله عليه وسلم، بعد الرجل الذي عرج- من كان به جرحٌ أن لا يستقيد حتى تبرأ جراحته، فإذا برئت جراحته استقاد.
عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں فیصلہ کیا جس نے کسی شخص کو پاؤں پر کسی سینگ سے مارا تھا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول(ﷺ)! مجھے قصاص چاہیے۔ رسول اللہﷺ نے اسے فرمایا کہ جلدی نہ کرو پہلے اپنا زخم ٹھیک ہو لینے دو۔ اس نے انکار کیا اور قصاص کا مطالبہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو بدلہ دلوا دیا۔ بدلہ لینے والا اس پر چڑھا اور اپنا بدلہ پورا کر لیاپھر یہ قصاص لینے والا رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! میں لنگڑا ہو گیا اور میرا ساتھی ٹھیک ہو گیا؟رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اس وقت تک بدلہ نہ لو جب تک تمہارا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا؟ تم نے میری نافرمانی کی اللہ نے تجھے دور کر دیا اور تیرے زخم کو بگاڑ دیا۔اس آدمی کے بعد جو لنگڑا ہو گیا تھا، رسول اللہﷺ نے یہ حکم فرمایا کہ جس کو بھی کوئی زخم آئے تو وہ اس وقت تک قصاص نہ لے جب تک اس کا زخم ٹھیک نہیں ہو جاتا۔ جب زخم ٹھیک ہو جائے تو اپنا بدلہ لے لے۔
اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو سینگ سے مارا اور سینگ وہ ہڈی ہوتی ہے جو چوپایوں کے سر میں ہوتی ہے۔ اس نے نبی کریمﷺ سے اُس مار کا قصاص طلب کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو زخم کے مندمل ہونے تک انتظار کرنے کو کہا کیونکہ کوئی پتہ نہیں تھا کہ یہ زخم مندمل ہوتا ہے یا نہیں، یا عضو پر اثر انداز ہو جائے یا اس کی جان پر اثر انداز ہو جائے اور انسان مر جائے۔اس نے انکار کیا اور قصاص میں جلدی کی۔ رسول اللہﷺ نے مجرم پر حد قائم کروا دی۔ مجرم قصاص کے بعد ٹھیک ہو گیا جب کہ قصاص کا مطالبہ کرنے والا لنگڑا ہو گیا۔ وہ رسول اللہﷺ کے پاس شکایت لے کر آیا تو رسول اللہﷺ نے وضاحت کی کہ تو نے قصاص میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا اور تاخیر پر راضی نہیں ہوا تھا، اس لیے تیری جو دیت بنتی تھی وہ حق تو نے وصول کر لیا۔ اس کی جلد بازی اور نبی کریمﷺ کے حکم کی نافرمانی پر آپ ﷺ نے اس کو ڈانٹتے ہوئے اس بات پر زور دیا اور زخم کے ٹھیک ہونے تک قصاص لینے میں تاخیر کا حکم دیا۔
حوالہ
مسند الإمام أحمد بن حنبل، المحقق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، مؤسسة الرسالة، الطبعة: الأولى، 1421 هـ - 2001 م.
منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428.
توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م.
تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى.
فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427.
الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل الشيباني ومعه بلوغ الأماني من أسرار الفتح الرباني، أحمد بن عبد الرحمن بن محمد البنا الساعاتي - دار إحياء التراث العربي- الطبعة: الثانية.
إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل للألباني، المكتب الإسلامي الطبعة: الثانية 1405 هـ.
معجم اللغة العربية المعاصرة، المؤلف: د أحمد مختار عبد الحميد عمر بمساعدة فريق عمل, الناشر: عالم الكتب. الطبعة: الأولى، 1429 هـ.
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com