عن أبي ثَعْلبة الخُشني رضي الله عنه قال: «أَتَيْتُ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، إنا بأرض قوم أهل كتاب، أَفَنَأْكُلُ في آنِيَتِهِم؟ وفي أرض صيد، أَصِيدُ بِقَوْسِي وبِكَلْبِي الذي ليس بِمُعَلَّمٍ، وبِكَلْبِي المُعَلَّمِ، فما يَصلح لي؟ قال: أمَّا مَا ذَكَرْتَ- يعني من آنية أهل الكتاب-: فإِنْ وجدْتُمْ غيرها فلا تأكلوا فيها، وإِنْ لم تَجِدُوا فاغسِلوهَا، وكلوا فِيهَا، وما صدتَ بِقَوْسِكَ، فذَكَرْتَ اسمَ الله عَلَيه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ المُعَلَّمِ، فَذَكَرْتَ اسْمَ الله عليه فَكُلْ، وما صِدْتَ بِكَلْبِكَ غيرِ المُعَلَّمِ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ».
ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کی سرزمین میں رہتے ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ اور ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت ہوتا ہے۔ میں تیر کمان سے بھی شکار کرتا ہوں اور اپنے اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا نہیں ہے اور اس کتے سے بھی جو سکھایا ہوا ہے، تو اس میں سے کس کا کھانا میرے لیے جائز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جو اہل کتاب کے برتن کا ذکر کیا ہے، تو اگر تمھیں اس کے سوا کوئی اور برتن مل سکے، تو اس میں نہ کھاؤ، لیکن کوئی دوسرا برتن نہ ملے، تو ان کے برتن کو خوب دھو کر اس میں کھا سکتے ہو اور جو شکار تم اپنی تیر کمان سے کرو اور (تیر پھینکتے وقت) اللہ کا نام لیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو اور جو شکار تم نے غیر سدھائے ہوئے کتے سے کیا ہو اور اسے خود ذبح کیا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے بیان کیا کہ وہ لوگ، اہل کتاب کے ہمسائیگی میں رہنے کی بنا پر کچھ مسائل کے شکار ہیں۔ یہاں اہل کتاب سے ان کی مراد یہود و نصاری ہیں۔ ایسے میں کیا ان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ ان کے برتنوں میں گندگی کایقین رکھتے ہوئے بھی کھاسکتے ہیں؟ چنانچہ آپ ﷺ نے انھیں دو شرطوں کے ساتھ ان کے برتنوں میں کھانے کے جواز کا فتویٰ دیا۔ کھانے کے علاوہ دیگر امور میں ان برتنوں کا استعمال بدرجۂ اولی جائز ہوگا۔
(1) ایک یہ کہ انھیں ان کےعلاوہ برتن میسر نہ آئیں (2) اور دوسری یہ کہ وہ ان برتنوں کو دھو کر ہی استعمال کریں۔
انھوں نے آپ ﷺ سے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ وہ ایسی سرزمین میں رہتے ہیں، جہاں شکار بہت زیادہ عام ہے اور وہ اپنی کمان، شکار اور اس کے آداب کے بارے میں تربیت یافتہ کتے اور بلا تربیت یافتہ کتے سے بھی شکار کرتے ہیں، تو ان کے لیے کس شکار کا کھانا جائز ہے اور ان آلات سےکیے گئے شکار میں سے کون سا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے انھیں فتویٰ دیا کہ تیر وکمان سے کیا جانے والا شکار اس شرط کے ساتھ حلال ہے کہ "بسم اللہ" کہتے ہوئے تیر چھوڑا جائے۔
جہاں تک کتوں سے کیے جانے والے شکار کا معاملہ ہے، توسکھائے گئے کتوں کو چھوڑتے وقت بسم اللہ کہنے سے، وہ شکار بھی حلال ہوجاتا ہے اور غیر سکھائے گئے کتوں کے ذریعے کیا جانے والا شکار اسی صورت میں حلال ہے کہ شکار زندہ حالت میں دستیاب ہو اور اس کو شرعی طور پر ذبح کیا جائے۔
حوالہ
-صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422ه.
-صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423ه.ـ
-تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، 1426ه.
-عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أنس رضي الله عنه قال: «أَنْفَجْنَا أَرْنَباً بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَسَعَى الْقَوْمُ فَلَغَبُوا، وَأَدْرَكْتُهَا فَأَخَذْتُهَا، فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ، فَذَبَحَهَا وَبَعَثَ إلَى رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم بِوَرِكِهَا وَفَخِذَيْهَا فَقَبِلَهُ».
انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مر ظہران کے مقام پر ایک خرگوش کا پیچھا کیا۔ کچھ لوگ اس کے پیچھے بھاگے، لیکن تھک کر رک گئے۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے لے کر حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے ذبح کیا اور اس کے پٹھے اور رانوں کا گوشت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں تھے۔ شاید انھوں نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا، جو مر الظہران کے نام سے معروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ پر فتح مکہ کے سال پڑاؤ کیا تھا۔ انھوں نے ایک خرگوش کو بدکایا تو وہ بھاگ اٹھا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو تھک کر رک گئے، لیکن میں نے اسے جا لیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت عین جوانی میں تھے۔ اسے پکڑ کر اپنے سوتیلے والد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس میں سے کچھ گوشت یعنی رانیں اور پٹھے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ "ورک" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پٹھا، ٹانگ کے جوڑ سے ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور شاید اس میں سے تناول بھی فرمایا۔
حوالہ
صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ.
تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار علماء السلف، الطبعة: الثانية 1414هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة 1426هـ.
عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية 1408هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعَنْ ابنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ عنهما عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ ضَارٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ»، قَالَ سَالِمٌ: وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: «أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ»، وَكَانَ صَاحِبَ حَرْثٍ.
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کوئی ایسا کتّا رکھا جو نہ تو شکار کی غرض سے ہو اور نہ ہی مال مویشی کی حفاظت کے لیے تو اس کہ وجہ سے اس کے اجر سے روزانہ دو قیراط کی کمی ہو جاتی ہے“۔ سالم کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: ”یا کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتّا“۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھیتی باڑی والے آدمی تھے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
کتے کا شمار گھٹیا اور گندے چوپایوں میں ہوتا ہے اس لیے شریعت مطہرہ نے انھیں رکھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ ایسا کرنے میں بہت سے نقصانات اور خرابیاں ہیں۔ مثلاً جس گھر میں کتا ہو اس سے ملائکہ کرام دور رہتے ہیں، اسی طرح اس سے دوسرے لوگ خوف اور ڈر کھاتے ہیں اور یہ نجاست اور ضرر رسانی کا سبب ہوتا ہے اور اسے رکھنا کم عقلی کی علامت ہے۔
جو شخص کتا پالتا ہے اس کی وجہ سے روزانہ اس کے اجر کا ایک بہت بڑا حصہ کم ہو جاتا ہے۔ سمجھانے کے لیے دو قیراط کہہ دیا گیا ہے، جس کی مقدار اللہ ہی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ شخص کتا رکھ کر اور ایسا کرنے پر مصر ہو کر اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔
تاہم اگر ضرورت ہو تو تین مقاصد میں سے کسی ایک کے لیے اسے رکھا جا سکتا ہے:
اول: بھیڑیے اور چوروں کے اندیشے کے پیش نظر مویشیوں کی حفاظت کے لیے۔
دوم: کھیتی کی حفاظت کے لیے۔
سوم: جب اس کے رکھنے کا مقصد شکارکرنا ہو۔
ان منافع کے لیے کتا رکھنا مباح ہے اور ان کی بنا پر وہ شخص ملامت کا مستحق نہیں ہوتا۔
حوالہ
صحيح البخاري (7/ 87) (5480).
صحيح مسلم (3/ 1202) (1574).
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص720).
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن عديّ بن حاتم رضي الله عنه قال: قلتُ: يا رسول الله، إني أُرسلُ الكلاب المعلَّمة، فيُمسِكنَ عليّ، وأذكرُ اسم الله؟ فقال: "إذا أرسلتَ كلبَكَ المعلَّمَ، وذكرتَ اسمَ الله، فكُلْ ما أمسكَ عليك"، قلت: وإن قتلنَ؟ قال: "وإن قَتلْنَ، ما لم يَشْرَكْها كلبٌ ليس منها"، قلتُ له: فإني أرمي بالمِعْراض الصيدَ فأُصُيبُ؟ فقال: "إذا رميتَ بالمعراضِ فخزَقَ فكلْهُ، وإن أصابَه بعَرْضٍ فلا تأكلْهُ".
وحديث الشعبي، عن عدي نحوه، وفيه: "إلا أن يأكل الكلب، فإن أكل فلا تأكل؛ فإني أخاف أن يكون إنما أمسك على نفسه، وإن خالطها كلاب من غيرها فلا تأكل؛ فإنما سميت على كلبك، ولم تسم على غيره".
وفيه: "إذا أرسلت كلبك المكلب فاذكر اسم الله، فإن أمسك عليك فأدركته حيا فاذبحه، وإن أدركته قد قتل ولم يأكل منه فكله، فإنَّ أخْذَ الكلبِ ذَكَاته".
وفيه أيضا: "إذا رميت بسهمك فاذكر اسم الله".
وفيه: "فإن غاب عنك يوما أو يومين -وفي رواية: اليومين والثلاثة- فلم تجد فيه إلا أثر سهمك، فكل إن شئت، فإن وجدته غريقا في الماء فلا تأكل؛ فإنك لا تدري الماء قتله، أو سهمك؟
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! میں سکھائے ہوئے کتوں کو بسم اللہ پڑھ کر( شکار پر )چھوڑتا ہوں اور وہ شکار کو روک کر رکھتے ہیں۔ (تو اس بارے آپ ﷺ کا کیا خیال ہے؟)آ پ نے فرمایا: اگر تم نے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا، تو وہ جو شکار روک کر رکھے اسے کھاؤ، میں نے عرض کیا: اگر کتے شکار کو مار ڈالیں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ( ہاں ) اگر چہ مار ڈالیں۔ جب تک اس کے ساتھ (شکار کرنے میں) دوسرا کتا شریک نہ ہو۔ میں نے عرض کیا کہ ہم بے پر کے تیر یا لکڑی سے شکار کرتے ہیں۔ (اس کے بارے کیا خیال ہے؟) آپ نے فرمایا کہ اگر ان کی دھاراس کو زخمی کرکے پھاڑ ڈالے، تو کھاؤ، لیکن اگر ان کے عرض سے شکار مارا جائے، تو اسے نہ کھاؤ۔ (یعنی وہ مر دار ہے۔) عدی سے شعبی کی روایت بھی اسی جیسی ہے۔ اس میں ہے: الا یہ کہ کتا اس میں سے کھالے، اگر اس نے کھالیا، تو پھر نہ کھاؤ؛ کیوں کہ یہاں یہ ڈر ہے کہ اس نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہو۔ اسی طرح اگر اس کے ساتھ دیگر کتے بھی مل جائیں، تو بھی نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے، باقیوں پر نہیں۔
اسی روایت میں یہ بھی ہے: اگر تمنے اپنے سکھائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا اور اس نے تمھارے لیے شکارے روکے رکھا اور تم نے اسے زندہ پایا، تو اس کو ذبح کر لو اور اگر اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اس نے مار دیا ہو، لیکن اس میں سے کھایا نہ ہو، تو بھی اس کو کھا لو؛ کیوں کہ کتے کا پکڑنا ذبح کرنے کے حکم میں ہے۔
اس میں یہ بھی ہے: جب تیر چلاؤ تو بسم اللہ پڑھ لو۔
اس میں یہ بھی ہے: اگر وہ (شکار) تم سے ایک یا دو دن -اور ایک روایت کے مطابق دو یا تین دن- غائب رہا - اور اس پر تمھارے تیر کے نشان کے علاوہ کوئی نشان نہ ہو، تو اگر چاہو تو کھا سکتے ہو۔ البتہ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پاؤ تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تجھے یہ معلوم نہیں کہ اسے پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے موت آئی ہے یا تیرا تیر لگنے سے؟
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سدھائے ہوئےکتوں کے شکار کے بارے میں پوچھا، جن کو مالک نے شکار کے لیے سدھا رکھا ہو، تو آپﷺ نے فرمایا کہ اگر ان کو چھوڑتے وقت 'بسم اللہ' پڑھی تھی اور ان کے ساتھ (شکار کے عمل میں) کوئی دوسرا کتا شریک نہیں ہوا، تو ان کے پکڑے ہوئے شکار کو کھا لو۔ اگر ان کے ساتھ کوئی اور کتا شریک ہو گیا، تو نہ کھاؤ؛ کیوں کہ تم نے اپنے کتے پر 'بسم اللہ' پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں۔ اسی طرح اگر تیر چلاؤ اور اس کا پھل شکار کے جسم میں داخل ہو جائے اور خون بہنے لگے، تو اس کو بھی کھا لو؛ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کو 'بسم اللہ' پڑھ کر چھوڑا گیا ہو۔ البتہ اگر تیر چوڑائی میں لگے اور شکار مر جائے، تو مت کھاؤ، کیوں کہ وہ چوٹ لگنے سے مرنے کی وجہ سے 'متردیہ' (اوپر سے گر کر مرنے والا جانور) اور نطیحہ (سینگ لگ کر مرنے والا جانور) کے حکم میں ہوگا۔ جب کسی نے شکار کے پیچھے کتا دوڑایا اور شکار کو زندہ پایا، اسے کتے نے جان سے نہیں مارا تھا، تو ذبح کرنا ضروری ہوگا اور شکار حلال ہوگا، گرچہ اسے پکڑنے میں دوسرا کتا بھی شریک رہا ہو۔ انھوں نے 'بسم اللہ' کہہ کر تیر سے شکار کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے اس کے شکار کو کھانے کا حکم دیا۔ اگر شکار ایک یا دو دن غائب رہنے کے بعد ملے اور اس کے جسم پر اس کے تیر کے نشان کے علاوہ اور کوئی نشان نہ ہو، تو اس کا کھانا جائز ہوگا۔ اگر اسے پانی میں ڈوبا ہوا پائے، تو نہ کھائے، کیوں کہ یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ پانی میں ڈوبنے سے مرا ہے یا تیر لگنے سے۔
حوالہ
صحيح البخاري، تحقيق محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، ط 1422هـ.
صحيح مسلم، ط دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي.
الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري، ط دار الفكر بدمشق، الطبعة الأولى، 1381هـ.
تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، للبسام، ط دار الميمان، 1426هـ.
تأسيس الأحكام للنجمي، ط دار المنهاج، 1427هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن ابن أبي عَمَّار قال: قلت لجابر: الضَّبْع صَيْدٌ هي؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ: آكُلُها؟ قال: «نعم»، قال: قلتُ له: أَقَالَهُ رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ قال: «نعم».
ابن ابو عمار سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا لکڑ بگھا شکار ہے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: کیا میں اسے کھاوں؟ جواب دیا: ہاں! وہ کہتے ہیں میں نے پوچھا: کیا یہ بات اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی ہے؟ جواب دیا: ہاں۔
اسے ابنِ ماجہ نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام نسائی نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام دارمی نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
ابن ابو عمار نامی تابعی نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے لکڑ بگھا کے بارے میں پوچھا کہ کیا اس کا شکار کرنا اور اسے کھانا جائز ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں جائز ہے۔ ابن ابو عمار نے جابر رضی اللہ عنہ سے پھر پوچھا کہ کیا یہ فتوی انھوں نے اپنی رائے سے دیا ہے یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ تو بتایا کہ انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حوالہ
-سنن أبي داود, أبو داود سليمان بن الأشعث الأزدي السِّجِسْتاني, المحقق: محمد محيي الدين عبد الحميد, المكتبة العصرية، صيدا – بيروت.
- سنن الترمذي، تأليف: محمد بن عيسى الترمذي، تحقيق أحمد شاكر وغيره، الناشر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، الطبعة الثانية، 1395 ه.
-سنن ابن ماجه, ابن ماجة أبو عبد الله محمد بن يزيد القزويني، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي, الناشر: دار إحياء الكتب العربية - فيصل عيسى البابي الحلبي.
-السنن الصغرى للنسائي "المجتبى"، تحقيق: عبد الفتاح أبو غدة، نشر: مكتب المطبوعات الإسلامية – حلب، الطبعة الثانية، 1406ه – 1986م.
-مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقيق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، وآخرون، نشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى، 1421هـ - 2001م.
-مسند الدارمي المعروف بـ (سنن الدارمي), أبو محمد عبد الله بن عبد الرحمن الدارمي، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني, دار المغني للنشر والتوزيع، المملكة العربية السعودية, الطبعة الأولى، 1412هـ - 2000م.
-إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل, محمد ناصر الدين الألباني, إشراف: زهير الشاويش, المكتب الإسلامي – بيروت, الطبعة الثانية 1405 هـ - 1985م.
-سبل السلام شرح بلوغ المرام، تأليف: محمد بن إسماعيل بن صلاح الصنعاني، الناشر: دار الحديث, بدون طبعة وبدون تاريخ.
-توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
-تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427ه - 2006م.
-فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ.
-منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427هـ - 1431هـ.
-عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: تهذيب سنن أبي داود, محمد أشرف بن أمير بن علي بن حيدر، العظيم آبادي, دار الكتب العلمية – بيروت, الطبعة الثانية، 1415هـ.
-فتاوى اللجنة الدائمة - اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء, جمع وترتيب: أحمد بن عبد الرزاق الدويش, الناشر: رئاسة إدارة البحوث العلمية والإفتاء - الإدارة العامة للطبع – الرياض.
یہ حدیث HadeethEnc.com پرعن أبي ثعلبة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ، فغابَ عنْك، فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ، ما لَمْ يُنْتِنْ».
ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب تم کسی شکار پر تیر چلاو اور وہ غائب ہو جائے اور پھر بعد میں ملے، تو اسے کھاو، جب تک اس میں بد بو نہ آ جائے"۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح
اس حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ شکاری نے جب شکار پر تیر یا اس کے حکم میں داخل کوئی اور اوزار چلایا، پھر وہ شکار کو لگ گیا، اس کے بعد شکار شکاری کی نظروں سے اوجھل ہو گیا اور بعد میں ملا، تو ایسے میں اگر وہ شکار کے جسم پر اپنے چلائے ہوئے تیر کے نشان کے علاوہ کسی دوسرے قاتل زخم کا نشان نہ پائے، تو اسے کھا سکتا ہے۔ لیکن یہ جواز اس وقت تک ہے، جب تک اس کے اندر بدلاو اور بد بو نہ آ گئی ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو وہ خبائث یعنی گندی چیزوں میں شمار ہوگا اور انسان کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے کی وجہ سے اس کو کھانا جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ
-صحيح مسلم، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي - الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت.
-مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي بن سلطان الملا الهروي القاري، الناشر: دار الفكر، بيروت - لبنان، الطبعة الأولى، 1422هـ - 2002م.
-توضيح الأحكام مِن بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن عبد الرحمن بن صالح البسام، الناشر: مكتبة الأسدي، مكة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م.
-تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة الأولى، 1427هـ - 2006م.
-فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ.
-منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، النشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427 - 1431هـ.
یہ حدیث HadeethEnc.com پریہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com