سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

ذبح کرنا

8 احادیث

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔

عَنْ أَنَسٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: ضَحَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، ذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ، وَسَمَّى وَكَبَّرَ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے دو چتکبرے، سینگ والے مینڈھوں کی قربانی کی۔ دونوں کو اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا پاؤں دونوں کے پہلوؤں پر رکھا۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہيں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عیدالاضحی کے دن سینگوں والے دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور فرمایا: اللہ کے نام سے ذبح کر رہا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ ذبح کرتے وقت آپ نے اپنا پاؤں مینڈھے کی گردن پر رکھ دیا۔

فوائد
  1. قربانی کرنے کى مشروعیت۔ اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع بھی ہے۔
  2. بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور اسی طرح کا ہو، جس طرح کا جانور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذبح کیا۔ کیوں کہ یہ دیکھنے میں اچھا ہوتا ہے، اس میں چربی ہوا کرتی ہے اور اس کا گوشت بڑا لذیذ ہوا کرتا ہے۔
  3. نووی کہتے ہيں: اس حدیث کی روشنی میں اپنی قربانی کا جانور کسی اور سے ذبح کروانے کے بجائے خود اپنے ہی ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے۔ البتہ کوئی عذر ہو، تو بات الگ ہے۔ لیکن اس وقت بھی خود موجود رہنا چاہیے۔ لیکن بلا اختلاف کسی دوسرے مسلمان سے ذبح کرانا بھی جائز ہے۔
  4. ابن حجر کہتے ہيں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بسم اللہ کہنے کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کہنا اور جانور کی گردن کے دائيں حصے پر اپنا پاؤں رکھنا مستحب ہے۔ علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جانور کو بائيں پہلو کے بل لٹاکر اس کے دائيں پہلو پر پاؤں رکھ دیا جائے گا، تاکہ ذبح کرنے والے کو دائيں ہاتھ سے چھری پکڑنے اور بائيں ہاتھ سے گردن کو پکڑے رہنے میں آسانی ہو۔
  5. سینگ والے جانور کی قربانی مستحب ہے۔ بغیر سینگ والے جانور کی بھی قربانی جائز ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (7/ 102) (5565). صحيح مسلم (3/ 1556) (1966). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص724). الإعلام بفوائد عمدة الأحكام، لابن الملقن (10/ 179).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہے۔

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الحُلَيْفَةِ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، فَأَصَابُوا إِبِلًا وَغَنَمًا، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُخْرَيَاتِ القَوْمِ، فَعَجِلُوا، وَذَبَحُوا، وَنَصَبُوا القُدُورَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالقُدُورِ، فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ قَسَمَ، فَعَدَلَ عَشَرَةً مِنَ الغَنَمِ بِبَعِيرٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ، فَطَلَبُوهُ، فَأَعْيَاهُمْ وَكَانَ فِي القَوْمِ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ، فَأَهْوَى رَجُلٌ مِنْهُمْ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ اللَّهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ البَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا»، فَقَالَ أي رافع: إِنَّا نَرْجُو -أَوْ نَخَافُ- العَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالقَصَبِ؟ قَالَ: «مَا أَنْهَرَ الدَّمَ، وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الحَبَشَةِ».
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مقام ذوالحلیفہ میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑاؤ کیا۔ لوگ بھوکے تھے۔ ادھر غنیمت میں ہمیں اونٹ اور بکریاں ملی تھیں۔ نبی کریمﷺ لشکر کے پچھلے حصے میں تھے۔ لوگوں نے ( بھوک کے مارے) جلد بازی سے کام لیا، جانور ذبح کیے اور ہانڈیاں چڑھادیں۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے حکم سے ان ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر آپ (ﷺ) نے غنیمت کی تقسیم شروع کی، دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا۔ اتفاق سے مال غنیمت کا ایک اونٹ بھاگ نکلا۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے دوڑے، لیکن اونٹ نے سب کو تھکادیا ۔ آخر ایک صحابی (خود رافع رضی اللہ عنہ) نے اسے تیرمارا ۔ اللہ کے حکم سے اونٹ جہاں تھا، وہیں رہ گیا۔ اس پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان ( پالتو) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو“۔ میں ( رافع رضی اللہ عنہ ) نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کل ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ ادھر ہمارے پاس چھری بھی نہیں ہے، توکیا ہم بانس کی کھپچیوں سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز خون بہادے اور ذبح کرتے وقت اس پر اللہ تعالیٰ کا نام بھی لیا گیا ہو، تو اس کا گوشت کھاؤ۔ البتہ وہ چیز (جس سے ذبح کیا گیا ہو) دانت اور ناخن نہ ہونا چاہیے۔ میں تمھیں اس کی وجہ بھی بیان کردیتا ہوں؛ دانت تو اس لیے نہیں کہ وہ ہڈی ہے اور ناخن اس لیے نہیں کہ وہ حبشیوں کی چھری ہیں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں ایک جگہ پر تھے، جیسے ذوالحلیفہ کہا جاتا ہے۔ ان کے پاس بہت سارے جانور تھے۔ انھوں نے ان کی تقسیم کا انتظار کیے بغیر ،تقسیم سے پہلے ہی ان کو ذبح کر دیا۔ رسول اللہﷺ پیچھے تھے، جب پہنچے تو لوگوں نے ہانڈیاں چڑھا دی تھیں۔ آپ ہانڈیوں کے پاس جاکر انھیں انڈیل دیا اور مٹی ڈال دی۔ نیز فرمایا: لوٹ مار کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں ہے! پھر آپﷺ نے مال غنیمت تقسیم کیا اور ایک اونٹ کے برابر دس بکریاں مقرر کیں۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے حصے کے جانور ذبح کیے۔ ان جانوروں میں سے ایک اونٹ بھاگ گیا اور گھوڑوں کی قلت کی وجہ سے وہ اسے قابو میں نہ کر سکے۔ ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اللہ کے حکم سے وہ وہی رک گیا۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ان ( پالتو ) جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں کی طرح بعض دفعہ وحشت ہو جاتی ہے۔ اس لیے اگر کوئی جانور قابو میں نہ آئے، تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ پھر رسول اللہﷺ سے یہ پوچھا گیا کہ ذبح کس طریقے سے کیا جائے؟ تو ان کو بتایا کہ ہر وہ چیز جس سے خون بہنا شروع ہو جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے۔ جب کہ ناخن چاہے وہ انسانی ہاتھ کے ساتھ ہو یا الگ، اس سے ذبح کرنا جائز نہیں؛ کیوں کہ یہ کافر وں کی چھری ہے اور دانت سے ذبح کرنا بھی جائز نہیں ہے اس لیے کہ وہ ہڈی ہے۔

حوالہ

صحيح البخاري (3/ 138) (2488). صحيح مسلم (3/ 1558) (1968). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص721).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور کھایا۔

عن أَسْمَاء بِنْت أَبِي بَكْرٍ رضي الله عنهما قالت: «نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ». وَفِي رِوَايَةٍ «وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ».
اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ ”ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑا ذبح کیا اور اُس کو کھایا“۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ”ہم اس وقت مدینہ میں تھے“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اسماء بنت ابو بکر رضی اللہ عنہما بتا رہی ہیں کہ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا۔ اس میں اس بات کی دلالت ہے کہ گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز ہے۔ کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں انہیں گدھوں اور خچروں کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اس لیے ان کا کھانا ممنوع ہے۔ (وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لا تَعْلَمُونَ) [ النحل :8]۔ ترجمہ:”گھوڑوں کو، خچروں کو، گدھوں کو اس نے پیدا کیا تاکہ تم ان کی سواری لو اور وه باعثِ زینت بھی ہیں۔ اور بھی وه ایسی بہت چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم بھی نہیں“۔

حوالہ

1- صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى 1422هـ. 2- صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ. 3- خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، فيصل بن عبد العزيز المبارك، الطبعة: الثانية 1412هـ، 1992م. 4- الإفهام في شرح عمدة الأحكام، لابن باز، تحقيق: سعيد القحطاني، مؤسسة عبد العزيز بن باز الخيرية، الرياض، الطبعة: الأولى 1435هـ. 5- الإلمام بشرح عمدة الأحكام، إسماعيل بن محمد الأنصاري، دار الفكر، دمشق، الطبعة: الأولى 1381هـ. 6- تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، دار الميمان، الطبعة: الأولى 1426هـ، 2005م. 7- تأسيس الأحكام، أحمد بن يحيى النجمي، دار المنهاج، الطبعة: 1427هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال: «أَمَرَنِي رَسُول اللَّهِ -صلَّى الله عليه وسلَّم- أَن أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَن أَتَصَدَّقَ بِلَحمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا، وَأَن لا أُعْطِيَ الجَزَّارَ مِنهَا شَيْئًا».
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور ان کے گوشت، کھالوں اور جھولوں کو صدقہ کروں، نیز ان میں سے قصاب کو بہ طور اجرت کچھ بھی نہ دوں۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ کی طرف چلے۔ قربانی کے جانور ساتھ تھے۔ (اسی موقعے پر) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے ساتھ بھی قربانی کے جانور تھے۔ چوں کہ یہ فقرا اور مساکین کے لیے صدقہ تھے، اس لیے قربانی کرنے والے کو اس میں تصرف کرنے یا اس میں سے کچھ بطور معاوضہ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ آپ نے انھیں ذبح کرنے والے کو بطور معاوضہ اس میں سے کچھ دینے سے منع فرمایا۔ بلکہ بطور اجرت گوشت، کھال اورجھول کے علاوہ کوئی دوسری چیز دی جائے گی۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام للبسام، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه وصنع فهارسه: محمد صبحي بن حسن حلاق، ط10، مكتبة الصحابة، الإمارات - مكتبة التابعين، القاهرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام لابن عثيمين، ط1، مكتبة الصحابة، الإمارات، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام صلى الله عليه وسلم لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، ط2، دار الثقافة العربية، دمشق ، بيروت، مؤسسة قرطبة، 1408هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. صحيح مسلم، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

میں نے دیکھا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔

عن زياد بن جبير قال: رَأَيتُ ابنَ عُمَرَ أَتَى عَلَى رجل قد أَنَاخَ بَدَنَتَهُ، فَنَحَرَهَا، فَقَالَ: ابْعَثْهَا قِيَاماً مُقَيَّدَةً، سُنَّةَ مُحَمَّدٍ -صلَّى الله عليه وسلَّم-.
زیاد بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ایک شخص کے پاس آئے، جس نے اپنا اونٹ بٹھا رکھا تھا اور اسے نحر کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو اور پھر نحر کرو، جیسا کہ محمد ﷺ کی سنت ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اونٹوں کے سوا گائے اور بھیڑ بکریوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں بائیں پہلو پر قبلہ رو لٹا کر حلق کی جگہ سے ذبح کیا جائے۔ جب کہ اونٹوں میں سنت یہ ہے کہ انھیں کھڑا کر کے اور اگلا بایاں پاؤں باندھ کر سینے پر سے نحر کیا جائے کیوںکہ اس طریقے سے اس کی روح جلدی نکل جاتی ہے اور اسے کم تکلیف ہوتی ہے۔ اسی لیے جب عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ایسے شخص سے گزر ہوا، جو اونٹ کو بٹھا کر نحر کرنا چاہ رہا تھا، تو انھوں نے اس سے فرمایا: اسے کھڑا کر کے باندھ دو (اور پھر نحر کرو)۔ یہی نبی ﷺ کی سنت ہے جنھوں نے اونٹ کو نحر کرنے میں قرآن کے بتائے ہوئے طریقۂ عمل کی پیروی کی کہ: ”فَإِذَا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا“۔(ترجمہ:پھر جب ان کے پہلو زمین سے لگ جائیں)۔ ”وَجَبَتْ“ کا معنی ہے: جب وہ گر پڑیں اور کسی شے کا گرنا تب ہی ہوتا ہے، جب وہ پہلے کھڑی ہو۔

حوالہ

تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله بن عبد الرحمن البسام، تحقيق: محمد صبحي حلاق، مكتبة الصحابة، الأمارات، مكتبة التابعين، القاهرة، الطبعة: العاشرة، 1426هـ. تنبيه الأفهام شرح عمدة الأحكام، محمد بن صالح العثيمين، مكتبة الصحابة، الإمارات، الطبعة: الأولى، 1426هـ. عمدة الأحكام من كلام خير الأنام -صلى الله عليه وسلم-، لعبد الغني المقدسي، دراسة وتحقيق: محمود الأرناؤوط، مراجعة وتقديم: عبد القادر الأرناؤوط، دار الثقافة العربية، دمشق، بيروت، مؤسسة قرطبة، الطبعة: الثانية، 1408هـ. صحيح البخاري، محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي، تحقيق: محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم، مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي، دار إحياء التراث العربي، بيروت، الطبعة: 1423هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے

عن شداد بن أوس رضي الله عنه قال: ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، فَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ».
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ دو باتیں ہیں، جن کو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے سیکھا۔ آپ نے فرمایا : "بے شک اللہ تعالی نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص (جانور ذبح کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ) اپنی چھری کو خوب تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو آرام پہنچائے۔"
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے اوپر تمام چیزوں میں احسان فرض کیا ہے۔ جب کہ احسان کا مطلب ہے ہمیشہ اللہ تعالی کا دھیان اپنے ذہن میں رکھنا۔ اس کی عبادت کرتے وقت اور بھلائی کرتے وقت اور لوگوں کی تکلیف دور کرتے وقت۔ قتل اور ذبح کرتے وقت احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ کسی کو بطور قصاص قتل کرتے وقت احسان یہ ہے کہ قتل کا سب سے آسان، سب سے ہلکا اور سب سے تیز طریقہ اختیار کیا جائے۔ جب کہ ذبح کرتے وقت احسان یہ ہے کہ جانور پر رحم کرتے ہوئے ہتھیار کو تیز کر لیا جائے، ہتھیار کو ذبیحے کی نظروں کے سامنے تیز نہ کیا جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح نہ کیا جائے۔

فوائد
  1. مخلوق پر اللہ کا لطف و کرم۔
  2. قتل اور ذبح کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان دونوں کاموں کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
  3. اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کے اندر ہر طرح کی بھلائی موجود ہے، جس کی ایک مثال جانور کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ بھی ہے۔
  4. قتل کے بعد انسان کے جسمانی اعضا کو کاٹنا (مثلہ) منع ہے۔
  5. ہر وہ کام حرام ہے، جس میں جانور کو عذاب دینے کا پہلو پایا جائے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1548) (1955). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص38). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص185). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص65). فتح الباري، لابن حجر (9/ 644). شرح النووي على مسلم (13/ 107).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کر دیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا

عن كعب بن مالك، أنّ امرأةً ذَبحَت شاةً بِحَجَر، «فسُئل النبيُّ صلى الله عليه وسلم عن ذلك فأمَرَ بِأكلها».
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے پتھر سے ایک بکری کو ذبح کر دیا۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے اسے کھانے کا حکم دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بکری کو پتھر سے ذبح کر دیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ احد کے پاس بکریاں چرا رہی تھیں۔ اسی بیچ ایک بکری پر بھیڑیے نے حملہ کر دیا، اس نے بھیڑیے کو بھگایا اور ایک دھار دار پتھر لے کر بکری کو ذبح کر دیا۔ لوگوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے اس فعل کو بارے میں پوچھا، تو آپ نے اس بکری کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر، ط1، دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، 1422هـ. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض، المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان، دار ابن الجوزي، ط1 1428هـ. - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية، الطبعة الأولى 1427 هـ. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے

عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا القِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ».
ابو یعلی شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ لہٰذا جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب جانور ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی چھری تیز کر لو اور ذبح ہونے والے جانور کو آرام پہنچاؤ۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمارے اوپر تمام چیزوں میں احسان فرض کیا ہے۔ جب کہ احسان کا مطلب ہے ہمیشہ اللہ تعالی کا دھیان اپنے ذہن میں رکھنا۔ اس کی عبادت کرتے وقت اور بھلائی کرتے وقت اور لوگوں کی تکلیف دور کرتے وقت۔ قتل اور ذبح کرتے وقت احسان کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ کسی کو بطور قصاص قتل کرتے وقت احسان یہ ہے کہ قتل کا سب سے آسان، سب سے ہلکا اور سب سے تیز طریقہ اختیار کیا جائے۔ جب کہ ذبح کرتے وقت احسان یہ ہے کہ جانور پر رحم کرتے ہوئے ہتھیار کو تیز کر لیا جائے، ہتھیار کو ذبیحے کی نظروں کے سامنے تیز نہ کیا جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرا جانور ذبح نہ کیا جائے۔

فوائد
  1. مخلوق پر اللہ کا لطف و کرم۔
  2. قتل اور ذبح کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان دونوں کاموں کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
  3. اسلامی شریعت ایک مکمل شریعت ہے اور اس کے اندر ہر طرح کی بھلائی موجود ہے، جس کی ایک مثال جانور کے ساتھ رحم و کرم کا برتاؤ بھی ہے۔
  4. قتل کے بعد انسان کے جسمانی اعضا کو کاٹنا (مثلہ) منع ہے۔
  5. ہر وہ کام حرام ہے، جس میں جانور کو عذاب دینے کا پہلو پایا جائے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1548) (1955). التحفة الربانية في شرح الأربعين حديثا النووية (ص38). شرح الأربعين النووية، لابن عثيمين (ص185). فتح القوي المتين في شرح الأربعين وتتمة الخمسين، للعباد (ص65). فتح الباري، لابن حجر (9/ 644). شرح النووي على مسلم (13/ 107).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com