جب کوئی شخص کسی ایسے مريض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: (میں عظمت والے اللہ، جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اللہ اسے اس مرض سے شفا دے دے گا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جب کوئی شخص کسی ایسے مريض کی عیادت کرے، جس کی موت کا وقت ابھی قریب نہ آیا ہو اور اس کے پاس سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: (میں عظمت والے اللہ، جو عرش عظیم کا مالک ہے، سے دعا کرتا ہوں کہ تم کو شفا دے)، تو اللہ اسے اس مرض سے شفا دے دے گا۔"
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ جب کوئی مسلمان کسی مسلمان کی زیارت ایسی بیماری کے وقت کرتا ہے، جس میں اس کی موت نہ لکھی ہو، پھر مریض کے لیے یہ دعا پڑھے: "أسأل الله العظيم" یعنی میں اللہ سے جو اپنی ذات، صفات اور افعال میں عظیم ہے "رب العرش العظيم أن يشفيك" اور عرش عظیم کا رب ہے، دعا کرتا ہوں کہ تمھیں شفا عطا کرے، ساتھ ہی اس دعا کو سات بار دہرائے، تو اسے اللہ اس بیماری سے شفا عطا کرتا ہے۔
فوائد
اس دعا کے ذریعہ بیمار کے لیے دعا مانگنا اور اسے سات مرتبہ پڑھنا مستحب ہے۔
ان شاء اللہ اس شخص کو شفا حاصل ہوگی جس کے پاس یہ دعا پڑھی جائے، بشرطیکہ صدق نیتی اور اخلاص کے ساتھ دعا کی گئی ہو۔
یہ دعا سری اور جہری دونوں طریقے سے کرنا جائز ہے۔ لیکن مریض کو سنا کر کرنا اولی وافضل ہے۔ کیوں کہ یہ اس کے خوش ہونے کا سبب ہے۔
حوالہ
سنن أبي داود (5/ 22) (3106).
سنن الترمذي (3/ 593) (2083).
السنن الكبرى للنسائي (9/ 385) (10820).
مسند أحمد (4/ 40) (2137).
بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (2/ 163).
تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص537).
شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (4/ 483).
كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (11/ 559).
نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 689).
یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com