سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے۔

عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وِعاء، وثَدْيِي له سِقاء، وحِجْري له حِواء، وإن أباه طَلَّقَني، وأراد أنْ يَنْتَزِعَه مِني، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : «أنتِ أحقُّ به ما لم تَنكحي».
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، اور میری چھاتی اس کے لیے مشکیزہ، اور میری گود اس کے لیے جھولا ہے، اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ اسے مجھ سے چھین لے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے“۔
اسے امام ابو داؤد نے روایت کیا ہے۔ - اسے امام احمد نے روایت کیا ہے۔درجہحَسَنْ
تشریح

اس حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے شکایت کی جب اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی، اور اس نے ارادہ کیا کہ اس کے لڑکے کو اس سے چھین لے، اس عورت نے کچھ ایسے اوصاف بیان کیے تاکہ وہ بچہ اس کے پاس رہ سکے، چنانچہ اس نےکہا کہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کے لئے برتن تھا جب وہ پیٹ کا بچہ تھا، اور اس کی چھاتی اس کی پیدائش کے بعد اس کے لیے مشکیزہ، اوراس کی گود جس جگہ اسے سمیٹ کر رکھتی تھی اس کے لیے جھولا تھا، چنانچہ نبیﷺ نے اس کی ان باتوں کا اقرار کیا، اور اس سے کہا ’’ تو اس کی پرورش کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ تو کسی سے نکاح نہ کرے،،۔اور جب تو کسی سے نکاح کرلے گی تو تمہارا حق اس پر نہیں رہے گا، بلکہ اس کا باپ اس کا زیادہ حق دار ہوگا،،۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت جب شادی کر لے گی اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہے گا تو ایسی صورت میں اس نئے شوہر کے زیر پرورش ہو جائے گا، چنانچہ اس پر احسان کرے گا، جس کی وجہ سے یہ بچہ اس سے اپنے باپ کے مقابلے زیادہ وابستہ ہو جائے گا، اور بسا اوقات دوسری خرابیاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔

حوالہ

- سنن أبي داود , تحقيق: محمد محي الدين, المكتبة العصرية - مسند أحمد، تحقيق شعيب الأرنؤوط. الناشر : مؤسسة الرسالة الطبعة : الأولى ، 1421 هـ - صحيح أبي داود - الأم للألباني , مؤسسة غراس للنشر والتوزيع، الطبعة: الأولى، 1423 هـ - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام. مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة.الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام، تأليف: صالح بن فوزان بن عبد الله الفوزان، الطبعة: الأولى، 1427 هـ 2006 م - فتح ذي الجلال والاكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين، المكتبة الإسلامية - الطبعة الأولى 1427 - عون المعبود شرح سنن أبي داود، للعظيم آبادي دار الكتب العلمية - بيروت, الطبعة: الثانية، 1415 هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
حضانت/ پرورش

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com