اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جو اکابرِ صحابہ میں سے تھے، ان کی بیوی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو بتایا کہ ثابت رضی اللہ عنہ میں انہیں ان کے اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی بھی بات ناپسند نہیں ہے ۔اخلاقی اور دینی لحاظ سے وہ بہترین صحابہ میں سے ہیں تاہم انہیں یہ ناپسند ہے کہ اگر وہ ان کے ساتھ رہیں تو کہیں ان کے حق میں کوتاہی کی وجہ سے وہ خاوند کی نافرمانی کی مرتکب نہ ہو جائیں جب کہ خاوند کی نافرمانی اللہ کی شریعت کے مخالف ہے۔ ان كی ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ جسمانی طور پر بدنما تھے اور خوبصورت نہیں تھے جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ثابت رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ بات رکھی کہ ان کی بیوی انہیں وہ باغ واپس کر دیتی ہے جو انہوں نے اسے بطور مہر دیا تھا اور وہ انہیں ایک طلاق دے دیں جس سے وہ ان سے الگ ہو جائے۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے ایسا کر لیا۔ فقہاء رحمہم اللہ کے ہاں یہ حدیث خلع کے باب میں بنیادی دلیل کی حیثیت رکھتی ہے۔
- صحيح البخاري -الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله الفوزان-طبعة دار ابن الجوزي-الطبعة الأولى 1428. - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام: تأليف عبد الله البسام- مكتبة الأسدي –مكة المكرمة –الطبعة: الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - تسهيل الإلمام بفقه الأحاديث من بلوغ المرام: تأليف الشيخ صالح الفوزان- عناية عبد السلام السليمان - مؤسسة الرسالة الطبعة الأولى. - فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية القاهرة- تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي- الطبعة الأولى 1427. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر. دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية الطبعة: الأولى، 1435 هـ - 2014 م.