سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «الثَّيِّب أحقُّ بنفسها مِن وَلِيِّها، والبِكر تُسْتَأمَر، وإذْنُها سُكُوتها».
ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ شادی شدہ لڑکی، اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

اس حدیث میں اس مسئلہ کی رہنمائی ملتی ہے کہ شادی شدہ لڑکی اپنی شادی کی اجازت کے تئیں اپنے ولی کے مقابلہ میں ازخود زیادہ حق دار ہے اور یہ اس معنی میں کہ اس کے زبانی اقرار کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ولی سے زیادہ اپنا نکاح کرنے کا حق رکھتی ہے اور اگر وہ نکاح کے لیے راضی نہ ہو تو اس شادی شدہ کے ساتھ ولی کو کوئی اختیار نہیں رہتا اور بالغ کنواری لڑکی سے اس کا ولی، اس کے نکاح کی اجازت طلب کرے گا اور اس کی خاموشی ہی اس کی جانب سے اجازت اور اس کا اقرار ہے اور خیال رہے کہ اس کا نکاح بھی زبردستی کرنا جائز نہیں۔

حوالہ

- صحيح مسلم، ط. دار إحياء التراث العربي، تحقيق محمد فؤاد عبد الباقي. - توضِيحُ الأحكَامِ مِن بُلوُغ المَرَام، للبسام، مكتَبة الأسدي، مكّة المكرّمة، الطبعة الخامِسَة، 1423هـ - 2003م. - بلوغ المرام من أدلة الأحكام، لابن حجر، دار القبس للنشر والتوزيع، الرياض - المملكة العربية السعودية، الطبعة الأولى، 1435هـ - 2014م. - سبل السلام للصنعاني، نشر: دار الحديث. - فيض القدير شرح الجامع الصغير للمناوي, المكتبة التجارية الكبرى, الطبعة الأولى، 1356. - فتح ذي الجلال والإكرام شرح بلوغ المرام، لمحمد بن صالح بن محمد العثيمين، تحقيق: صبحي بن محمد رمضان، وأُم إسراء بنت عرفة، ط1، المكتبة الإسلامية، مصر، 1427هـ. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف: عبد الله بن صالح الفوزان، الناشر: دار ابن الجوزي، الطبعة الأولى، 1427هـ - 1431هـ. - تسهيل الالمام، للشيخ صالح الفوزان، طبعة الرسالة، الطبعة الأولى، 1427ه – 2006م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نکاح

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com