اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عورت کی شادی صحیح ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ولی ہو، جو نکاح کرائے۔
- نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے۔اگر ولی کی عدم موجودگی میں نکاح ہو جائے یا عورت خود ہی شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہوگی۔
- ولی سے مراد عورت کا سب سے قریبی رشتے والا مرد ہے۔ لہذا قریب کے ولی کے ہوتے ہوئے دور کا ولی عورت کى شادى نہیں کراسکتا۔
- ولی بننے کے لیے مکلف ہونا، مرد ہونا، مصالحِ نکاح سے واقفیت کی عمر میں ہونا، ولی اور زیر ولایت عورت کا ہم مذہب ہونا شرط ہے۔ جس کے اندر یہ اوصاف نہیں پائے جائیں گے، وہ نکاح کے لیے ولی بننے کا اہل نہیں ہوگا۔
سنن أبي داود (3/ 427) (2085). سنن الترمذي (2/ 392) (1101). سنن ابن ماجه (3/ 79) (1881). مسند أحمد (32/ 280) (19518). البدرُ التمام شرح بلوغ المرام، للمَغرِبي (7/ 57). إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للألباني (6/ 237). توضِيح الأحكام من بلوغ المَرَام، للبسام (5/ 262). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (7/ 222). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 469).