سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔

عن أبي موسى رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا نِكَاحَ إِلّا بِوَليٍّ».
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے“۔
رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم بتا رہے ہیں کہ عورت کی شادی صحیح ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ولی ہو، جو نکاح کرائے۔

فوائد
  1. نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ولی کا ہونا شرط ہے۔اگر ولی کی عدم موجودگی میں نکاح ہو جائے یا عورت خود ہی شادی کر لے، تو اس کی شادی صحیح نہیں ہوگی۔
  2. ولی سے مراد عورت کا سب سے قریبی رشتے والا مرد ہے۔ لہذا قریب کے ولی کے ہوتے ہوئے دور کا ولی عورت کى شادى نہیں کراسکتا۔
  3. ولی بننے کے لیے مکلف ہونا، مرد ہونا، مصالحِ نکاح سے واقفیت کی عمر میں ہونا، ولی اور زیر ولایت عورت کا ہم مذہب ہونا شرط ہے۔ جس کے اندر یہ اوصاف نہیں پائے جائیں گے، وہ نکاح کے لیے ولی بننے کا اہل نہیں ہوگا۔
حوالہ

سنن أبي داود (3/ 427) (2085). سنن الترمذي (2/ 392) (1101). سنن ابن ماجه (3/ 79) (1881). مسند أحمد (32/ 280) (19518). البدرُ التمام شرح بلوغ المرام، للمَغرِبي (7/ 57). إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل، للألباني (6/ 237). توضِيح الأحكام من بلوغ المَرَام، للبسام (5/ 262). منحة العلام في شرح بلوغ المرام، لعبد الله الفوزان (7/ 222). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، لابن عثيمين (4/ 469).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
نکاح

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com