سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَلْحِقُوا الفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ».
ابن عباس رضي الله عنهما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”وراثت کے مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو۔ پھر جو کچھ باقی بچ جائے وہ میت کے سب سے زیادہ قریبی مرد (وارث) کے لیے ہے۔“
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ میت کا ترکہ تقسیم کرنے والوں کو حکم دے رہے ہیں کہ وہ انہیں اس کے حق داروں میں منصفانہ طریقے سے اور شریعت کی روشنی میں اللہ کی منشا کے عین مطابق تقسیم کریں۔ چنانچہ وہ ورثا جن کے حصے اللہ کی کتاب کی رو سے معین ہیں، انہیں ان کے حصے دیے جائیں گے۔ وہ حصے یہ ہیں: دو تہائی، ایک تہائی، چھٹا حصہ، آدھا، چوتھائی اور آٹھواں حصہ۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے، اسے میت کے قریبی مرد رشتہ داروں کو دے دیا جائے گا، جنہیں عصبہ کہا جاتاہے۔

فوائد
  1. یہ حدیث ترکہ کی تقسیم کے سلسلے میں ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
  2. ترکہ کی تقسیم کا آغاز مقررہ حصے والوں سے ہوگا۔
  3. مقررہ حصوں کے بعد جو بچ جائے وہ عصبہ کا حق ہے۔
  4. اس میں بھی زیادہ قریبی رشتے دار کو مقدم رکھا جائے گا۔ کوئی دور کا رشتے دار جیسے چچا، قریبی رشتے دار جیسے باپ کے ہوتے ہوئے عصبہ کی حیثیت سے وارث نہيں بنے گا۔
  5. جب مقررہ حصے والوں کو دینے کے بعد مال ختم ہو جائے اور کچھ نہ بچے، تو عصبہ کو کچھ نہيں ملے گا۔
حوالہ

صحيح البخاري (8/ 152) (6737). صحيح مسلم (3/ 1233 - 1234) (1615). فتح الباري، لابن حجر (12/ 28). الإلمام بشرح عمدة الأحكام، لإسماعيل الأنصاري (2/ 53). تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، لعبد الله البسام (ص554). خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام، لفيصل آل مبارك (ص276).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
عصبہ

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com