سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جمعِ قرآن

3 احادیث

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ- اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- کہتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے۔

عن زيد بن ثابت الأنصاري -رضي الله عنه، وكان ممَّن يكتب الوحيَ- قال: أرسلَ إليَّ أبو بكر مَقتلَ أهلِ اليَمَامة وعنده عمر، فقال أبو بكر: إنَّ عمر أتاني، فقال: إن القتلَ قد اسْتَحَرَّ يوم اليَمَامة بالناس، وإنِّي أخشى أنْ يَسْتَحِرَّ القتلُ بالقُرَّاء في المواطن، فيذهب كثيرٌ من القرآن إلَّا أنْ تجْمعوه، وإنِّي لأَرى أنْ تَجْمع القرآنَ. قال أبو بكر: قلتُ لعمر: «كيف أفعلُ شيئًا لم يفعله رسولُ الله صلى الله عليه وسلم ؟» فقال عمر: هو واللهِ خيرٌ. فلم يزَلْ عمر يُراجعني فيه حتى شَرَحَ اللهُ لذلك صَدري، ورأيتُ الذي رأى عمر، قال زيد بن ثابت: وعمرُ عنده جالسٌ لا يتكلَّم، فقال أبو بكر: إنك رجلٌ شابٌّ عاقلٌ، ولا نَتَّهِمُك، كنتَ تكتبُ الوحيَ لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فتَتَبَّعِ القرآنَ فاجْمعه، فواللهِ لو كلَّفني نَقْلَ جبل من الجبال ما كان أثقلَ عليَّ ممَّا أمرني به مِن جَمْعِ القرآن، قلت: كيف تفعلان شيئًا لم يفعله النبي صلى الله عليه وسلم ؟ فقال أبو بكر: هو واللهِ خيرٌ، فلم أزَلْ أراجعه حتى شرح اللهُ صدري للذي شرحَ اللهُ له صدرَ أبي بكر وعمر، فقمتُ فتتبَّعتُ القرآنَ أجمعُه من الرِّقَاع والأكتاف، والعُسُب وصدور الرجال، حتى وجدتُ من سورة التوبة آيتيْن مع خُزيمة الأنصاري لم أجدْهما مع أحد غيره، {لقد جاءكم رسولٌ من أنفسِكم عزيزٌ عليه ما عَنِتُّم حريصٌ عليكم} [التوبة: 128] إلى آخرهما، وكانت الصُّحُفُ التي جُمِعَ فيها القرآنُ عند أبي بكر حتى توفَّاه اللهُ، ثم عند عمر حتى توفَّاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر.
زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے -اور وہ قرآن لکھنے والوں میں سے تھے- وہ کہتے ہیں کہ جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ کہنے لگے عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے چنانچہ انہوں نے کہا کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی قارئینِ قرآن مارے گئے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا ، لہذا قرآن کو ایک جگہ جمع کرادیں نہیں تو یہ ڈر لگا رہے گا۔ میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم ! اسی میں بھلائی ہے، چنانچہ وہ برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا اور میں نے بھی وہی سوچا جو عمر رضی اللہ عنہ نے سوچا۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا دیکھو ! تم جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہیں سچا جانتے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے ، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو، زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر مجھے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھ کو اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنی قرآن کو جمع کرنے میں محسوس ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اسی میں بھلائی ہے، پھر میں ان سے تکرار کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا، جیسے اللہ نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھول دیا تھا، چنانچہ میں اٹھا اور میں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی ، کہیں کپڑوں کے ٹکڑوں پر لکھا ہوا کہیں مونڈھے کی ہڈیوں پر کہیں کھجور کی ڈالیوں پر، اور لوگوں کو بھی یاد تھا، یہاں تک کہ مجھے سورہ توبہ کی دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا اور کہیں نہ ملیں، ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128) پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُم المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب یمامہ کی لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، جو سن گیارہ ہجری میں مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے یمامہ کے شہر میں ہوئی جس وقت عرب کے بہت سارے لوگ مرتد ہو گئے تھے، اور اس لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے دورِ خلافت میں بلایا، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس موجود تھے، میں گیا، ابو بکر رضی اللہ عنہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، چنانچہ انہوں نے کہا کہ مسیلمہ کذاب سے لڑائی میں بہت سے صحابہ مارے گئے، اور میں ڈرتا ہوں کہ اسی طرح جنگوں میں اور بھی حفاظ اور قرآن کے قرّاء مارے جاتے رہے تو بہت سارا قرآن دنیا سے اٹھ جائے گا! لہذا میری رائے تو یہ ہے کہ قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ بھلا میں وہ کام کیسے کر سکتا ہوں جو رسول اللہﷺنے نہیں کیا؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! قرآن کے جمع کرنے ہی میں بھلائی ہے، برخلاف اس کے چھوڑنے میں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر برابر اسی بات کو مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کے لیے میرا سینہ کھول دیا، اور میں نے قرآن کے جمع کرنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا اور عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس خاموش بیٹھے رہے، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے زید سے کہا بے شک اے زید! دیکھو! تم ایک جوان عقل مند آدمی ہو اور ہم تمہارے اوپر جھوٹ اور بھولنے کی تہمت بھی نہیں لگا رہے ہیں، تم نبیﷺ کے زمانے میں بھی قرآن لکھا کرتے تھے، لہذا قرآن کو تلاش کر کے اکٹھا کرو۔ اور پورا قرآن نبی ﷺ کے زمانے میں ہی لکھا گیا تھا لیکن ایک ہی جگہ پر نہ تھا، اور نہ تو مرتب انداز میں سورتیں لکھی تھیں۔ زید بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے کسی پہاڑ کو منتقل کرنے کے لیے کہتے تو مجھے اتنی پریشانی نہ ہوتی جتنا قرآن جمع کرنے کے منصوبے میں معلوم ہوئی! پھر زید نے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ آپ دونوں ایسا کام کرتے ہو جو نبیﷺ نے نہیں کیا؟ توابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! یہ اچھا کام ہے۔ زید نے کہا پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ مجھ سے برابر کہتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالی نے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میں نے مصلحت عامہ کے مدِّ نظر قرآن کو جمع کرنے کے بارے میں سوچا۔ چنانچہ زید اٹھے اور انہوں نے قرآن کی تلاش شروع کر دی، تاکہ اسے کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں کی ہڈیوں، سے جمع کر سکیں۔ ’’الأكتاف‘‘ کتف کی جمع ہے، اس سے مراد وہ چوڑی ہڈی ہے جو جانور کے مونڈھے پر ہوتی ہے اس کے سوکھ جانے کے بعد اس پر لکھا جاتا ہے، اور کھجور کی ڈالیوں پر، وہ اس طور پر کہ اس کے جھاگ کو اتار دیتے اور اس کی چوڑائی والے حصہ میں لکھتے، اور ان لوگوں کے سینوں سے جنہوں نے قرآن کو اکٹھا کیا اور اسے نبی ﷺ کی زندگی میں یاد کیا تھا، جیسے أبی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما، تو اس طرح سے جو آیتیں کپڑوں کے ٹکڑوں، اور مونڈھوں وغیرہ پر ملتیں وہ تاکید پر تاکید ہوتیں، یہاں تک کہ سورہ توبہ کی یہ دو آیتیں خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سوا کہیں اور لکھی ہوئی نہ ملیں: ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم﴾(دونوں آیتوں کی اخیر تک) ”تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں ایمان والوں کے ساتھ بڑے ہی شفیق اور مہربان ہیں، پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے“۔ (سورہ توبہ: 128)، پھر یہ مصحف جس میں قرآن جمع کیا گیا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی تک ان کے پاس رہا، ان کی وفات کے بعد اُمُّ المؤ منین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کےپاس تھا۔ قرآن کے جمع کرنے سے متعلق رافضہ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اس کام پر اعتراض کیا کہ انہوں نے ایسا کام کیا، جسے رسول اللہ ﷺ نے نہیں کیا تھا، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اس کام پر انکار کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور اس کی کتاب کے ساتھ خیرخواہی ہے، اور آپﷺ نے اس بات کی اجازت دی ہے، صحیح مسلم میں ابو سعید کی روایت کردہ حدیث میں ہے ’’قرآن کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ لکھو‘‘ اور ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کا مقصد اس چیز کا اکٹھا اور جمع کرنا تھا، جو پہلے ہی سے لکھا ہوا تھا، لہذا رافضہ کا اعتراض ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ پر درست نہیں۔

حوالہ

-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. -عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. -إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري، لأحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري، الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر، الطبعة: السابعة، 1323 هـ. -شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. -الأنساب, عبد الكريم بن محمد بن منصور التميمي السمعاني المروزي، المحقق: عبد الرحمن بن يحيى المعلمي اليماني وغيره, مجلس دائرة المعارف العثمانية، حيدر آباد, الطبعة: الأولى، 1382 هـ - 1962 م. -الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة بن محمد بن هبيرة الذهلي الشيباني، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، الناشر: دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے، حذیفہ رضی اللہ عنہ ان کی قرأت کے اختلاف سے گھبرا گئے۔

عن ابن شهاب أنَّ أنس بن مالك حدثه: أنَّ حُذيفة بن اليَمان قدِم على عثمان وكان يُغازي أهل الشام في فتْح أَرْمِيِنيَّة، وأَذْرَبِيجان مع أهل العراق، فأفْزَع حذيفةَ اختلافُهم في القراءة، فقال حُذيفة لعثمان: يا أمير المؤمنين، أدْرِكْ هذه الأمةَ، قبل أنْ يختلفوا في الكتاب اختلافَ اليهود والنصارى، فأرسل عثمانُ إلى حفصة: «أنْ أرسلي إلينا بالصُّحُف ننسخُها في المصاحف، ثم نردُّها إليك»، فأرسلتْ بها حفصةُ إلى عثمان، فأَمَر زيدَ بن ثابت، وعبدَ الله بن الزبير، وسعيد بن العاص، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف، وقال عثمان للرَّهْط القُرَشيِّين الثلاثة: «إذا اختلفتم أنتم وزيدُ بن ثابت في شيء من القرآن فاكتبوه بِلِسان قُريش، فإنما نزل بِلِسانهم» ففعلوا حتى إذا نسخوا الصُّحُف في المصاحف، رَدَّ عثمانُ الصُّحُفَ إلى حفصة، وأرسل إلى كلِّ أُفُق بمصحف مما نَسَخُوا، وأَمَر بما سواه من القرآن في كلِّ صحِيفة أو مُصحف، أنْ يُحرق.
ابن شہاب سے روایت ہے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے وہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ، اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ اس سے گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان یہود و نصاری کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، اس امت کو اس (اختلاف) سے روکنے کا سامان کریں! یہ سن کر عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، ہم اس کی نقلیں اتار کر پھر تم کو واپس کر دیں گے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھیج دیا۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے تینوں قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اسکے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا یا مصحف لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اورعثمان رضی اللہ عنہ شام اور عراق کے مسلمانوں کے ساتھ ارمینیہ اور آذر بائیجان، فتح کرنے کے لیے لڑ رہے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پڑھنے میں اختلاف کو سنا کیونکہ ان میں سے بعض أبی رضی اللہ عنہ اور بعض عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت کو پڑھ رہے تھےاس کی وجہ سے قریب تھا کہ ان کے درمیان کوئی فتنہ اور اختلاف ہو جائے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ گھبرا گئے کہ ان لوگوں نے قرآن کی قرأت میں اختلاف کیا ہے اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے، اے امیر المؤمنین! اس سے پہلے کہ مسلمان قرآن میں اختلاف کرنے لگیں، جس طرح یہود و نصاری نے تورات اور انجیل میں اختلاف کیا یہاں تک کہ اس میں رد و بدل کر دیا اور اس میں حذف و اضافہ کیا، اس وقت قرآن الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر لکھا ہواتھا اور مصحف کی شکل میں نہیں تھا۔ چنانچہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اُمّ المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو کہلا بھیجا کہ اپنا مصحف ہمارے پاس بھیج دو، تاکہ اس کی نقلیں اتار لیں، پھر تم کو واپس کر دیں گے، یہی وہ صحیفہ تھا جسے حفصہ رضی اللہ عنہا سے لیا گیا تھا، اور یہ وہ نسخہ تھا جسے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے جمع کرنے کا حکم دیا تھا اور اس وقت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف کی شکل میں جمع کر دیا، اس صحیفے اور ان کے صحیفے کے درمیان فرق یہ تھا کہ ابو بکر کے عہد میں سورتیں الگ الگ اور منفرد تو تھیں تاہم مرتب انداز میں نہیں تھیں، لیکن جب ترتیب وار اور مرتب انداز میں لکھ دی گئیں تو وہ مصحف کی شکل میں ہو گئیں، اوریہ مصحف کی مکمل شکل عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں ہوئی، چنانچہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت اور عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا۔ انہوں نے اس کی نقلیں اتاریں، زید بن ثابت انصاری تھے اور بقیہ تینوں قریش کے تھے، اورعثمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے لوگوں سے یہ بھی کہہ دیا ’’ اگر کہیں تم میں اور زید بن ثابت میں قرأت میں اختلاف ہو تو قریش کے محاورے کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کے محاورے پر اترا ہے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب مصحفوں کو تیار کر چکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف تو ان کے پاس واپس کر دیا، اور ان مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ہر ایک ملک میں بھجوا دیا، اور اس قرآن کے سوا جتنے الگ الگ پرچوں اور کاغذوں پر قرآن لکھا ہوا لوگوں کے پاس تھا سب کوجلانے کا حکم دیا۔

حوالہ

-صحيح البخاري، نشر: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)، الطبعة: الأولى، 1422ه. -عمدة القاري شرح صحيح البخاري، لمحمود بن أحمد بن موسى الحنفى بدر الدين العينى، الناشر: دار إحياء التراث العربي - بيروت. -شرح صحيح البخاري لابن بطال، تحقيق: أبي تميم ياسر بن إبراهيم، نشر: مكتبة الرشد، الرياض-السعودية، الطبعة: الثانية 1423ه، 2003م. -إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري, أحمد بن محمد بن أبى بكر بن عبد الملك القسطلاني القتيبي المصري, الناشر: المطبعة الكبرى الأميرية، مصر, الطبعة: السابعة، 1323 هـ -الإفصاح عن معاني الصحاح، ليحيى بن هبيرة بن محمد بن هبيرة الذهلي الشيباني، المحقق: فؤاد عبد المنعم أحمد، الناشر: دار الوطن، سنة النشر: 1417هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔

عَنِ ‌ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَليهِ وَسَلَّمَ لا يَعْرِفُ فَصْلَ السُّورةِ حَتَّى تَنْزِلَ عَليْهِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}.
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کو ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت شروع ہونے کا علم اس وقت تک نہ ہوتا، جب تک آپ پر «بسم الله الرحمن الرحيم» نہ اترتی۔
رواه أبو داوددرجہصحيح
تشریح

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنمہا بتا رہے ہیں کہ قرآن کریم کی سورتیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اترتیں اور آپ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ ایک سورت ختم ہوکر دوسری سورت کہاں ختم ہو رہی ہے، یہاں تک کہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) نازل ہوتی، جس سے آپ سمجھ جاتے کہ سابقہ سورت ختم ہوگئی ہے اور ایک نئی سورت شروع ہونے والی ہے۔

فوائد
  1. بسم اللہ کے ذریعہ دو سورتوں کے درمیان فاصلہ ڈالا جاتا ہے سوائے سورہ انفال اور سورہ توبہ کے۔
حوالہ

سنن أبي داود (2/ 91) (788)، شرح سنن أبي داود للعباد (102/ 15)، التنوير شرح الجامع الصغير (8/503)، عون المعبود (2/353).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com