سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

وقف

6 احادیث

جس شخص نے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کى راه میں گھوڑا پالا، تو يقيناً اس (گھوڑے) کا چارہ، اس کا پانی، اس کی لید اور اس كا پیشاب قیامت والے دن اس کے پلڑے ميں ہوں گے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا في سَبِيل الله، إيمانًا بالله، وتَصْدِيقًا بِوَعْدِه، فإن شِبَعَهُ وريَّه ورَوْثَهُ وبَوْلَه في مِيْزَانه يوم القيامة».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا مانتے ہوئے اللہ کے راستے میں گھوڑا پالتا ہے، اس کا کھانا،اس کا پینا، اس کی لید اور پیشاب قیامت کے دن اس کے پلڑے میں ہوں گے“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

حدیث کا معنی: جس نے اللہ کے راستے میں اور اس کی رضا کے حصول کے لیے جہاد کی خاطر گھوڑا وقف کیا، تاکہ اس پر سوار ہو کر مجاہدین جہاد کر سکیں؛ اگر اس کا یہ کام سچ مچ اللہ کی رضا کے حصول اور اس کی طرف سے کیے گئے وعدے کی تصدیق کے طور پر ہے، مثلا قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ﴾ ”تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں صرف کرو گے، وه تمھیں پورا پورا دیا جائے گا“، تو اللہ تعالیٰ اس گھوڑے کے کھانے، پینے اور بول و براز تک کا اجر اسے عنایت کرے گا کہ ان تمام چیزوں کو قیامت کے دن اس کی نیکیوں کے پلڑے میں رکھا جاۓ گا۔ ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث میں ہے: ”گھوڑے کی تین اقسام ہیں؛ ایک مالک پر وبال ہے، دوسرا مالک کے لیے پردہ ہے، تیسرا مالک کے لیے ثواب کا ذریعہ ہے...پھر فرمایا باعث ثواب وہ گھوڑا ہے، جسے آدمی نے اللہ کے راستے میں، اہل اسلام کے لیے سبزہ زار یا باغ میں وقف کر رکھا ہو۔ تو یہ گھوڑا باغ یا سبزہ زار سے جو کچھ کھاۓ گا، اس کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کی لید اور پیشاب کی مقدار کے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی لمبی رسی توڑ کر ایک یا دو ٹیلوں پر چڑھ جاۓ، تو اس کے قدموں کے نشانات اور لید کے برابر نیکیاں اللہ لکھ دیتا ہے، جب اس کا مالک اسے کسی نہر سے لے کر گزرتا ہے اور پانی پلانے کا ارادہ نہ ہونے کے باوجود وہ پانی پی لیتا ہے، تو اللہ اس کے لیے پیے گئے پانی کے قطروں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھ دیتا ہے“۔ متفق علیہ

حوالہ

كنوز رياض الصالحين، مجموعة من الباحثين برئاسة حمد بن ناصر العمار، ط1، كنوز إشبيليا، الرياض، 1430هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي، ط1، دار ابن الجوزي، الدمام، 1415ه. رياض الصالحين للنووي، تحقيق: ماهر ياسين الفحل، دار ابن كثير، دمشق، بيروت، ط1، 1428 هـ. رياض الصالحين، تحقيق: عصام هادي، وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية القطرية، دار الريان، بيروت، ط4، 1428هـ. صحيح البخاري، تحقيق: محمد زهير بن ناصر الناصر دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم: محمد فؤاد عبد الباقي)، ط1، 1422ه. منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري، لحمزة محمد قاسم، راجعه: الشيخ عبد القادر الأرناؤوط، مكتبة دار البيان، دمشق، مكتبة المؤيد، الطائف ، ط 1410 هـ. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين، ط14، مؤسسة الرسالة، 1407هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: كان أبو طلحة رضي الله عنه أكثر الأنصار بالمدينة مالا من نخل، وكان أحب أمواله إليه بَيْرَحَاء، وكانت مُسْتَقبِلَةَ المسجد وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب. قال أنس: فلما نزلت هذه الآية: {لن تنالوا البر حتى تُنِفُقوا مما تُحبون} قام أبو طلحة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، إن الله تعالى أنزل عليك: {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون} وإن أحب مالي إلي بَيْرَحَاء، وإنها صدقة لله تعالى ، أرجو بِرَّهَا وذُخْرَهَا عند الله تعالى ، فَضَعْهَا يا رسول الله حيث أَرَاكَ الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «بَخٍ ذلك مال رَابِحٌ، ذلك مال رابح، وقد سمعتُ ما قلتَ، وإني أرى أن تجعلها في الأقربين»، فقال أبو طلحة: أفعل يا رسول الله، فقسمها أبو طلحة في أقاربه، وبني عمه.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے کھجور کے باغات کی وجہ سے مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ مال دار تھے۔ اور اپنے باغات میں سب سے زیادہ پسند انہیں بیرحاء کا باغ تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا۔ رسول اللہ ﷺ اس میں تشریف لے جایا کرتے اور اس کا میٹھا پانی پیا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اے اللہ کے رسول! اللہ کے حکم سے جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہت خوب! یہ تو بڑا فائدہ بخش مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش مال ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا کے بیٹوں میں بانٹ دیا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

مدینہ کے انصار میں سب سے زیادہ کھیت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے تھے۔ مسجد نبوی کے قبلہ والی جانب میں ان کا ایک باغ تھا جس کا پانی بہت میٹھا تھا۔ نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لاتے اور وہاں سے پانی تناول فرمایا کرتے تھے۔ جب اللہ تعالی کا یہ فرمان نازل ہوا کہ: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ”تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (اللہ کی راہ میں) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو“۔ تو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ فوراً نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ اور اپنے اموال میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب بیرحاء کا باغ ہے۔ بیرحاء اس باغ کا نام تھا۔ میں اسے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے بطور صدقہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ اس پر آپ ﷺ نے حیران ہوتے ہوئے فرمایا: بہت خوب۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ یہ بہت نفع بخش مال ہے۔ میری رائے میں تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں میں تقسیم کر دو۔ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا اور اسے اپنے قریبی رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم کر دیا۔

حوالہ

- شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين، نشر: دار الوطن للنشر، الرياض، الطبعة: 1426ه. - بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين؛ تأليف سليم الهلالي، دار ابن الجوزي- الطبعة الأولى 1418ه - رياض الصالحين من كلام سيد المرسلين؛ للإمام أبي زكريا النووي، تحقيق د. ماهر الفحل، دار ابن كثير-دمشق، الطبعة الأولى، 1428ه . - نزهة المتقين شرح رياض الصالحين؛ تأليف د. مصطفى الخِن وغيره، مؤسسة الرسالة-بيروت، الطبعة الرابعة عشر، 1407هـ. - صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - كنوز رياض الصالحين، لحمد بن ناصر العمار، دار كنوز إشبيليا- الطبعة الأولى 1430ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔ آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو۔

عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال: «قد أصاب عمر أرضًا بخيبر. فأتى النبي صلى الله عليه وسلم يستأمره فيها. فقال: يا رسول الله، إني أصبت أرضًا بخيبر، لم أُصِبْ مالًا قَطُّ هو أنفس عندي منه، فما تأمرني به؟ فقال: إن شِئْتَ حَبَّسْتَ أصلها، وتصدقت بها. قال: فتصدق بها، غير أنه لا يُباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث. قال: فتصدق عمر في الفقراء، وفي القربى، وفي الرقاب، وفي سبيل الله، وابن السبيل، والضيف. لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف، أو يطعم صديقًا، غير مُتَمَوِّلٍ فيه»، وفي لفظ: «غير مُتَأثِّلٍ».
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر میں زمین ملی تو وہ نبی ﷺ کے پاس اس کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے حاضر ہوئے اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس جیسا مال مجھے کبھی نہیں ملا اور میرے نزدیک وہ سب سے محبوب چیز ہے۔آپ ﷺ مجھے اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنے پاس روک رکھو اور اس کی پیداوار صدقہ کردو‘‘ ۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس شرط پر وقف کیا کہ اس کی ملکیت نہ فروخت کی جائے نہ خریدی جائے اور نہ میراث بنے اور نہ ہبہ کی جائے۔ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے فقرا اور رشتہ داروں اور غلام آزاد کرنے میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافروں میں، مہمانوں میں صدقہ کردیا اور جو اس کا منتظم ہو وہ اس میں سے نیکی کے ساتھ (جائز بھر) کھائے یا اپنے دوستوں کو کھلائے تو کوئی حرج نہیں ، لیکن اس سے مال جمع نہ کرے۔ اور ایک دوسرے لفظ میں (غیر متاثل) ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، اس کی مقدار سو سہم (حصے) تھی۔ یہ آپ کے مال میں سے سب سے مہنگا مال تھا، اس لیے کہ یہ بہت عمدہ زمین تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نیکیوں میں آگے بڑھتے تھے۔ قرآن کریم کی آیت {لَنْ تَنَالوا البِرً حَتًى تُنْفِقُوا مِمًا تُحِبونَ } کے پیشِ نظر نیکی کی لالچ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس آئے تاکہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے صدقہ کرنے کے بارے میں مشورہ کریں۔ آپ ﷺ نے صدقہ کرنے کا سب سے اچھا مشورہ دیا یعنی اصل زمین کو پاس رکھ کر اس کی پیداوار کو صدقہ کردو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، وہ زمین وقف ہوگئی، اس کو نہ بیچا جا سکتا تھا، نہ ہدیہ کیا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس میں وراثت یا کوئی اور ایسا تصرف ہو سکتا تھا جس کی وجہ سے اس کی ملکیت کسی اور کی طرف منتقل ہو یا انتقالِ ملکیت کا سبب بنے۔ اس کو فقیروں و مسکینوں، عزیز و اقارب، غلام کو چھڑانے، جن پر دیت واجب ہو ان کی طرف سے دیت کی ادائیگی کے لیے، اللہ کے دین کی مدد اور دین کی سربلندی کے لیے لڑنے والے مجاہدین کے تعاون کے لیے، وہ مسافر جو اپنے شہر سے دور ہو اور اس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو نیز مہمانوں کو کھلانے کے لیے وقف کردیا۔ مہمان کا اکرام کرنا اللہ تعالیٰ پر ایمان کا حصہ ہے۔ یہ ضروت مند کی ضرورت کو بھی پورا کرتا ہے اور نیکی اور بھلائی کے کام کی نگرانی بھی ہے اور ساتھ ساتھ مالکِ زمین سے حرج اور گناہ کو دور کرنا ہے کہ وہ اچھے طریقے سے خود بھی اپنی ضرورت کے مطابق اس سے کھا سکتا ہے اور اس دوست کو بھی کھلا سکتا ہے جس کے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہ ہو۔ یہ خیر اور احسان کے راستے میں مال کا خرچ کرنا ہے۔ نہ کہ مال جمع کرکے مالدار ہونا مقصود ہو۔ تنبیہ: وقف یہ ہے کہ مسلمان اپنے مال کو صدقہ کر کے اس کی پیداوار کو بھلائی کے جس کام میں چاہے استعمال کرسکتا ہے، پیداوار کو اسی مصرف میں خرچ کرکے اصل مال کو باقی رکھا جائے گا۔ اس کی مثال یہ ہے کھیتی فقراء پر وقف کردے، تو پھل اور پیدا ہونے والی فصل فقراء کو دے دی جائے گی اور کھیتی ان کے پاس باقی رہے گی۔

حوالہ

- صحيح البخاري –الجامع الصحيح-؛ للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم؛ للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام للشيخ إسماعيل الأنصاري-مطبعة السعادة-الطبعة الثانية 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام-عبد الله البسام-تحقيق محمد صبحي حسن حلاق- مكتبة الصحابة- الشارقة- الطبعة العاشرة- 1426ه. - خلاصة الكلام شرح عمدة الأحكام- فيصل بن عبد العزيز بن فيصل ابن حمد المبارك الحريملي النجدي (المتوفى: 1376هـ)- الطبعة: الثانية، 1412 هـ - 1992 م.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی

عَنْ أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ، لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحُ مِنْ نَارٍ، فَأُحْمِيَ عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُكْوَى بِهَا جَنْبُهُ وَجَبِينُهُ وَظَهْرُهُ، كُلَّمَا بَرَدَتْ أُعِيدَتْ لَهُ، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ، إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْإِبِلُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، وَمِنْ حَقِّهَا حَلَبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ، بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، أَوْفَرَ مَا كَانَتْ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا فَصِيلًا وَاحِدًا، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا وَتَعَضُّهُ بِأَفْوَاهِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْبَقَرُ وَالْغَنَمُ؟ قَالَ: «وَلَا صَاحِبُ بَقَرٍ، وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا، إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ، لَا يَفْقِدُ مِنْهَا شَيْئًا، لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ، وَلَا جَلْحَاءُ، وَلَا عَضْبَاءُ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ أُولَاهَا رُدَّ عَلَيْهِ أُخْرَاهَا، فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ الْعِبَادِ، فَيَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِمَّا إِلَى النَّارِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْخَيْلُ؟ قَالَ: «الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ: هِيَ لِرَجُلٍ وِزْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، فَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ وِزْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا رِيَاءً وَفَخْرًا وَنِوَاءً عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَهِيَ لَهُ وِزْرٌ، وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَلَا رِقَابِهَا، فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَأَمَّا الَّتِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ، فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللهِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، فِي مَرْجٍ وَرَوْضَةٍ، فَمَا أَكَلَتْ مِنْ ذَلِكَ الْمَرْجِ، أَوِ الرَّوْضَةِ مِنْ شَيْءٍ، إِلَّا كُتِبَ لَهُ، عَدَدَ مَا أَكَلَتْ حَسَنَاتٌ، وَكُتِبَ لَهُ، عَدَدَ أَرْوَاثِهَا وَأَبْوَالِهَا، حَسَنَاتٌ، وَلَا تَقْطَعُ طِوَلَهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا، أَوْ شَرَفَيْنِ، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ عَدَدَ آثَارِهَا وَأَرْوَاثِهَا حَسَنَاتٍ، وَلَا مَرَّ بِهَا صَاحِبُهَا عَلَى نَهْرٍ، فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَا يُرِيدُ أَنْ يَسْقِيَهَا، إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ، عَدَدَ مَا شَرِبَتْ، حَسَنَاتٍ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَالْحُمُرُ؟ قَالَ: «مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ فِي الْحُمُرِ شَيْءٌ، إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ»: {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: 8].
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی سونا یا چاندی والا شخص اپنے اس مال کا حق (زکوٰۃ) ادا نہیں کرتا، اس کے لیے قیامت کے دن آگ کی تختیاں تیار کی جائیں گی اور انہیں جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر ان سے اس کے پہلو، اس کی پیشانی اور پشت کو داغا جائے گا۔ جب جب بھی تختیاں ٹھنڈی ہوجائیں گیں، انھیں دوبارہ گرمایا جائے گا۔ یہ عذاب ایک ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال کی ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک بندوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے اور (عذاب میں گرفتار شخص) جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔“ عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! اونٹوں کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اونٹوں کا مالک ہو اور وہ ان کا حق (زکوۃ) ادا نہ کرتا ہو اور ان کا حق یہ بھی ہے کہ ان کو پانی پلانے کے دن (ضرورت مندوں اور مسافروں کے لیے) ان کا دودھ دوہا جائے، تو قیامت کے دن اس شخص کو اونٹوں کے سامنے ایک ہموار میدان میں منہ کے بل اوندھا ڈال دیا جائے گا اور اس کے سارے اونٹ پہلے سے بھی زیادہ فربہ حالت میں وہاں موجود ہوں گے اور ان میں سے اونٹ کا ایک بچہ تک بھی کم نہ ہوگا۔ يہ اونٹ اپنے کھروں سے اس شخص کو روندیں گے اور اپنے منہ سے اسے کاٹیں گے۔ ان میں سے جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو اس پر ان میں سے پہلے اونٹ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ایسے دن میں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا) یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ جنت یا جہنم کی جانب اپنا راستہ دیکھ لے۔" عرض کیا گيا: اے اللہ کے رسول! گائے اور بکریوں کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا : "جو شخص گایوں اور بکریوں کا مالک ہو اور ان کا حق ادا نہ کرتا ہو، قیامت کے دن اسے ایک ہموار میدان میں اس کی گایوں اور بکریوں کے سامنے اوندھے منہ ڈال دیا جائے گا۔ ایک بھی گائے یا بکری کم نہیں دکھے گی۔ کسی کا سینگ نہ مڑا ہوگا، نہ ٹوٹا ہوگا اور نہ کوئی بلا سینگ ہوگی۔ وه اپنے سينگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے کھروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری روند کر چلی جائے گی، تو پہلی کو دوبار لوٹا دیا جائے گا۔ یہ عذاب ايسے دن ميں ہوگا، جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہوگی۔ (یہ سلسلہ جاری رہے گا،) یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے اور وہ شخص جنت یا دوزخ کی طرف اپنا راستہ دیکھ لے۔ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! گھوڑوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’گھوڑے تین قسم کے ہوتے ہیں : ایک تو وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے بوجھ (گناہ کا باعث) ہوتے ہیں، دوسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے پردہ ہوتے ہیں اور تیسرے وہ گھوڑے جو آدمی کے لیے ثواب کا باعث بنتے ہیں۔ چنانچہ جو گھوڑے انسان کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں وہ ریاکاری، اظہارِ فخر اور اہل اسلام کے خلاف مقابلے کے ليے رکھتا ہے۔ یہ اس کے لیے گناہ کا باعث ہوتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں انسان اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے باندھتا ہے اور ان کی پیٹھ اور گردنوں کے بارے میں اللہ کے حق کو نہیں بھولتا۔ ایسے گھوڑے انسان کے لیے پردہ بنتے ہیں۔ جو گھوڑے انسان کے لیے اجر کا باعث ہوتے ہیں، وہ ایسے گھوڑے ہیں، جنہیں آدمی اللہ کے راستے میں جہاد کے مقصد سے مسلمانوں کے لیے چراگاہ یا باغ میں باندھ کر رکھے۔ وہ گھوڑے اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔"
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے مختلف طرح کے اموال اور ان کی زکاۃ ادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن ملنے والی جزا کا ذکر کیا ہے۔ مثلا : 1- سونا، چاندی اور ان کا حکم رکھنے والے دیگر اموال اور تجارتی سامان۔ ان پر اگر زکاۃ واجب ہو جائے اور زکاۃ ادا نہ کی جا‏‏ئے، تو قیامت کے دن ان کو پگھلاکر پہلے تختیوں کی شکل میں ڈھالا جائے گا اور اس کے بعد ان تختیوں کو جہنم کی آگ میں تپاکر ان کے مالک کے پہلو، پیشانی اور پیٹھ پر داغا جائے گا۔ جب جب ان کی گرمی ماند پڑ جائے گی، ان کو دوبارہ تپایا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔ 2- اونٹ کا جو مالک فرض زکاۃ اور اس کا حق ادا نہ کرتا ہو اور اس کا ایک حق یہ ہے کہ اس کا دودھ مسکینوں کو بھی پینے کے لیے دیا جائے، تو قیامت کے دن اس کے اونٹوں کو پہلے سے کہیں زیادہ فربہ حالت اور زیادہ تعداد میں لایا جائے گا، پھر اس کے مالک کو ان کے سامنے ایک ہموار اور وسیع و عریض زمین میں لٹا دیا جائے گا، اس کے بعد وہ اونٹ اسے اپنے پیروں سے روندیں گے اور اپنے دانتوں سے کاٹیں گے۔ جب آخری اونٹ گزر جائے گا، تو پہلے اونٹ سے پھر یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت میں جانا ہے یا جہنم میں۔ 3- گائے اور بکری کا جو مالک ان کی فرض زکاۃ نہ دیتا ہو، قیامت کے دن اس کی گايوں اور بکریوں کو ان کی پوری تعداد میں اس طرح سامنے لایا جائے گا کہ ایک گائے یا بکری بی ادھر ادھر نہیں ہوگی۔ سب جانور بالکل صحیح و سالم ہوں گے۔ نہ کسی کا سینگ مڑا ہوا ہوگا، نہ کسی کا سینگ ٹوٹا ہوا ہوگا اور نہ کوئی جانور بلا سینگ کا ہوگا۔ پھر ان کے مالک کو ایک وسیع و عریض اور ہم وار میدان میں ان کے سامنے لٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ گائيں اور بکریاں اسے اپنے سینگوں اسے ماریں گی اور اپنے پیروں سے اسے کچلیں گی۔ جب آخری گائے یا بکری گزر جائے گی، تو پہلی گائے یا بکری سے پھر سے یہ سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔ عذاب کا یہ سلسلہ قیامت کے روز دن بھر جاری رہے گا اور وہ دن بھی پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ یہاں تک کہ مخلوق کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا اور یہ طے ہو جائے گا اسے جنت مبں جانا ہے یا جہنم میں۔ 4- گھوڑا پالنے والا۔ دراصل گھوڑے تین طرح کے ہوا کرتے ہیں : 1- ایسا گھوڑا جو مالک کے لیے گناہ کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے نام و نمود، فخر اور اہل اسلام سے جنگ کے لیے پالا جائے۔ 2- ایسا گھوڑا جو انسان کے لیے پردے کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے اور پھر اس کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہوئے اسے کھلانے پلانے اور اس کی دیکھ بھال کا بہتر انتظام کیا جائے۔ 3- ایسا گھوڑا جو اجر و ثواب کا باعث ہو۔ اس سے مراد ایسا گھوڑا ہے، جسے مسلمانوں کی خاطر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے رکھا جائے۔ یہ جب کسی چراگاہ یا باغ میں ہوتے ہيں، تو وہ اس چراگاہ یا باغ میں جو کچھ بھی کھاتے ہیں ان کے کھانے کے بقدر اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور ان کی لید اور پیشاب کے بقدر بھی اس کے لیے نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ اگر وہ اپنی رسی توڑ کر ایک ٹیلے یا دو ٹیلوں پر دوڑ کر چڑھ جائیں، تو ان کے پاؤں کے نشانات کے بقدر اور اس دوران گرنے والی لید پر بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اگر ان کا مالک انہیں کسی نہر پر لے جائے اور وہ اس میں سے پانی پی لیں، حالاں کہ اس کا انہیں پانی پلانے کا ارادہ نہ بھی ہو، تب بھی وہ جتنا پانی پیتے ہیں، اس کے بقدر الله تعالى اس کے لیے نیکیاں لکھ ديتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا گدھے بھی گھوڑوں کے حکم میں ہيں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ گدھوں کے بارے میں مجھ پر کوئی مخصوص حکم نازل نہیں ہوا ہے، تاہم یہ منفرد اور جامع آیت موجود ہے، جس کے دائرے میں ہر طرح کی نیکیاں اور گناہ آ جاتے ہیں : [فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ، وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ] (الزلزلہ:7-8) (ترجمہ: پس جس نے ذره برابر نیکی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذره برابر برائی کی ہوگی، وه اسے دیکھ لے گا۔) یعنی جس نے اچھے ارادے سے گدھا پالا ہوگا، وہ اس کا ثواب سامنے دیکھے گا اور جو برے ارادے سے پالا ہوگا، اس کی سزا بھی سامنے دیکھے گا۔ اس آیت کی وسعتوں میں تمام اعمال داخل ہیں۔

فوائد
  1. زکاۃ دینا واجب ہے۔ اسے روکنے والے کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔
  2. سستی کی وجہ سے زکاۃ نہ دینے والا کافر تو نہيں ہے، لیکن وہ بڑے خطرے کے دہانے پر ہوتا ہے۔
  3. انسان جب کوئی نیکی کا کام کرتا ہے، تو اس کی جزئیات کا بھی اسے ثواب ملتا ہے، جب اصل نيكى كى نيت كرلی ہو، گرچہ ان جزئیات وتفصیلات کى اس نے نیت نہ کى ہو۔
  4. مال میں زکاۃ کے علاوہ اور بھی حقوق ہوتے ہيں۔
  5. اونٹ کا ایک حق یہ ہے کہ جب اسے پانی پلانے کے لیے گھاٹ میں لے جایا جائے، تو وہاں موجود غریبوں کو بھی اس کا دودھ دوہ کر پلایا جائے۔ تاکہ ضرورت مندوں کے لیے آسانی ہو جائے کہ ان کو گھر گھر نہ جانا پڑے اور جانور کو بھی سہولت ہو۔ ابن بطال کہتے ہیں: مال پر دو طرح کے حق عائد ہوتے ہیں : ایک فرض عین اور دوسرا اس کے سوا۔ سو مسکینوں کو دودھ پلانے کا شمار ان حقوق میں ہوگا، جو مکارم اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں۔
  6. اونٹ، بیل اور بکری کا ایک ضروری حق یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی مادہ جانور کو گابھن کرنے کے لیے چھوڑنے کو کہا جائے، تو چھوڑ دیا جائے۔
  7. گدھوں اور ان تمام چیزوں کا، جن کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہو، حکم یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کے اس قول کے عموم میں داخل ہیں : (فمن يعمل مِثقال ذرة خيرًا يَره، ومن يعمل مِثقال ذرة شرًا يره)۔
  8. اس آیت میں نیک کام کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، خواہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو اور برا کام کرنے سے ڈرایا گیا ہے، خواہ معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 175) (4962). صحيح مسلم (2/ 680) (987). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين. بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (2/ 350). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (2/ 862). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (5/ 253). تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان، لعبد الرحمن آل سعدي (ص335). فتح الباري شرح صحيح البخاري، لابن حجر (3/ 268). شرح الزرقاني على موطأ مالك، لمحمد الزرقاني (2/ 164). مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، لعلي القاري (4/ 1262).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ: «إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل بھی منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین قسم کے عمل (کا ثواب) جاری رہتا ہے۔ صدقۂ جاریہ، یا ایسا علم جس سے اس کے بعد بھی فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ انسان کی موت کے ساتھ اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔ اسے موت کے بعد ثواب بس تین چیزوں کا ملتا ہے، کیوں کہ ان کا سبب وہ خود ہوتا ہے۔ یہ تین چيزیں درج ذیل ہيں: 1- ایسا صدقہ جس کا ثواب مسلسل اور ہمیشہ جارى رہے کبھی بند نہ ہو۔ جیسے وقف، مسجد کی تعمیر اور کنواں کھدوانا وغیرہ۔ 2- ایسا علم جس سے لوگ بہرہ ور ہوتے رہیں۔ جیسے علمی کتابوں کی تصنیف اور کسی شخص کو تعلیم سے آراستہ کرنا، جو اس کی موت کے بعد بھی علم کی نشر و اشاعت کا کام کرتا رہے۔ 3- مومن اور صالح اولاد، جو اپنے والدین کے لیے دعا کرتے رہیں۔

فوائد
  1. اہل علم کا اجماع ہے کہ انسان کو موت کے بعد جن چیزوں کا ثواب ملتا رہتا ہے، ان میں صدقۂ جاریہ، لوگوں کے لیے مفید علم اور دعا شامل ہیں۔ کچھ حدیثوں میں حج کا ذکر بھی ہوا ہے۔
  2. ان تین چیزوں کا ذکر بطور خاص اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ چیزیں خیر کے کاموں میں اساس کی حیثیت رکھتی ہیں اور عام طور پر اہل فضل چاہتے ہيں کہ یہ چيزیں ان کے بعد باقی رہیں۔
  3. ویسے تو ہر نفع بخش علم کا اجر و ثواب ملتا ہے، لیکن اس معاملے میں شرعی علم اور اس کے حصول میں مدد گار علوم سرفہرست ہیں۔
  4. ان تین چيزوں میں بھی سب سے زیادہ نفع بخش چیز شرعی علم ہے۔ کیوں کہ اسے سیکھنے والا اس علم سے تو مستفید ہوتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ شریعت کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور اللہ کی ساری مخلوق فیض یاب ہوتی ہے۔ علم کے اندر ایک جامعیت یہ ہے کہ اس سے آپ کے دور کے لوگوں کے ساتھ ساتھ آپ کے بعد کے لوگ بھی فیض یاب ہوں گے۔
  5. اولاد کی صالح تربیت کی ترغیب۔ کیوں کہ صالح اولاد اپنے والدین کو آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔ اس نفع رسانی کی ایک صورت یہ ہے کہ صالح اولاد اپنے والدین کے لیے دعا کرتی ہے۔
  6. والدین کی وفات کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی ترغیب۔ یہ بھی والدین کے ساتھ اس حسن سلوک میں شامل ہے جس سے اولاد مستفید ہوتی ہے۔
  7. ویسے تو دعا اولاد کے علاوہ کوئی اور کرے، تب بھی میت کو فائدہ ہوتا ہے، لیکن آپ نے بطور خاص اولاد کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ کیوں کہ کسی بھی انسان کے لیے اس کی اولاد ہی تا دم حیات دعا کرتی رہتی ہے۔
حوالہ

صحيح مسلم (3/ 1255) (1631)، البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج (28/ 413).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

اے اللہ کے رسول! سعد کی ماں مر چکی ہے۔ اب آپ بتائيں کہ اس کے حق میں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "پانی پلا نا۔" راوی کہتے ہيں: یہ سننے کے بعد انھوں نے ایک کنوا کھدوا دیا اور کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیے۔

عن سعد بن عبادة رضي الله عنه أنه قال: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ، فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ: «الْمَاءُ»، قَالَ: فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لِأُمِّ سَعْدٍ.
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! سعد کی ماں مر چکی ہے۔ اب آپ بتائيں کہ اس کے حق میں کون سا صدقہ سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: "پانی پلا نا۔" راوی کہتے ہيں: یہ سننے کے بعد انھوں نے ایک کنوا کھدوا دیا اور کہا کہ یہ سعد کی ماں کے لیے۔
رواه أبو داود والنسائي وابن ماجهدرجہحسن بمجموع طرقه
تشریح

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ فوت ہو گئيں، تو انھوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ان کی والدہ کی جانب سے کون سا صدقہ سب سے اچھا رہے گا؟ چنانچہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا کہ سب سے افضل صدقہ پانی کا انتظام ہے۔ لہذا انھوں نے ایک کنواں کھدوا دیا اور اسے اپنی والدہ کے لیے صدقہ کر دیا۔

فوائد
  1. پانی پلانا بہترین صدقات میں سے ہے۔
  2. اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سعد رضی اللہ عنہ کی رہنمائی پانی کا صدقہ کرنے کی جانب فرمائی۔ کیوں کہ ایک تو پانی کا فائدہ دینی اور دنیوی امور دونوں میں عام ہے اور دوسرا یہ کہ عرب میں گرمی بڑی سخت پڑتی ہے، پانی کی بڑی ضرورت رہتی ہے اور پانی بہت کم پایا جاتا ہے۔
  3. صدقات کا اجر و ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے۔
  4. سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک۔
حوالہ

سنن أبي داود (3/ 109) (1681)، سنن النسائي (6/ 254) (3664)، سنن ابن ماجه (4/ 643) (3684)، شرح سنن أبي داود للعباد (204/ 19).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com