سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شفعہ

1 احادیث

رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شُفعہ کا فیصلہ فرمایا تھا جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حقِ شفعہ باقی نہیں رہتا۔

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: (جعل وفي لفظ: قضى) النبي صلى الله عليه وسلم بالشُّفْعة في كل ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود، وصُرِّفَتِ الطرق؛ فلا شفعة).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر اس چیز میں شفعہ کا حق دیا تھا (ایک روایت کے میں فیصلہ فرمایا تھا) جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو۔ لیکن جب حدود مقرر ہو گئیں اور راستے بدل دیے گئے تو پھر حق شفعہ باقی نہیں رہا۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

یہ حکیمانہ شریعت حق و عدالت کو ثابت کرنے اور شر اور نقصان کو دور کرنے کے لیے آئی ہے۔ اسی وجہ سے جب زمینوں میں شراکت ضرر کا باعث بنے اور شراکت کا نقصان طول پکڑے اور تقسیم گراں گزرے، تو صاحبِ شریعت حکمت والی ذات (اللہ) نے حصے دار کو شفعہ کرنے کا حکم دیا۔ یعنی جب ایک شریک مشترک زمین میں سے اپنا حصہ بیچے، تو شریعت شراکت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کو دور کرنے کے لیے دوسرے شریک کو خریدار سے قیمت کے بدلے اس کا حصہ لینے کا حق دیتی ہے۔ یہ حق شریک کو اس وقت تک رہتا ہے جب تک زمین تقسیم نہ ہو، اس کی حدبندی نہ ہو اور اس کے راستے نہ بنے۔ حدبندی اور دوسروں کے حصوں میں تمییز اور راستے بننے کے بعد کوئی شفعہ نہیں۔ کیونکہ اب شراکت کی وجہ سے وہ نقصان ختم ہو گیا جس کی وجہ دوسرے شریک کو خریدار سے مبیع (بیچی جانے والی شے) لینے کا حق تھا۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. -الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري، مطبعة السعادة، الطبعة الثانية، 1392هـ. -تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق -مكتبة الصحابة- الشارقة، الطبعة العاشرة، 1426هـ.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com