سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

”جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے“۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو“۔

عن أَبِي أُمَامَةَ إِياسِ بنِ ثَعْلَبَةَ الحَارِثِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ».
ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ حارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارا، اس کے لیے اللہ نے جہنم کو واجب اور جنت کو حرام کردیا ہے“۔ ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! چاہے وہ چیز تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو“۔
رواه مسلمدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جان بوجھ کر کسی مسلمان کا حق چھیننے کے لیے اللہ کی جھوٹی قسم کھانے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ اس سے انسان جہنم کا مستحق بن جاتا ہے اور جنت سے محروم ہو جاتا ہے۔ یہ دراصل کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔ آپ کی بات سننے کے بعد ایک شخص نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! جس چيز کے لیے قسم کھائی گئی ہے، وہ تھوڑی ہو تب بھی یہی سزا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب دیا: وہ مسواک کے لیے استعمال میں آنے والی پیلو کے پیڑ کی ایک لکڑی ہو، تب بھی یہی سزا ہے۔

فوائد
  1. اس حدیث میں دوسرے کا حق مارنے سے خبردار کیا گیا ہے اور صاحب حق کو اس کا حق دینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ حق چاہے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ حاکم کا غلط حکم کسی انسان کے لیے ایسی چیز کو مباح نہیں کرتا، جو اس کا نہ ہو۔
  2. نووی کہتے ہيں: مسلمانوں کا حق مارنا سخت حرام ہے اور اس معاملے میں چھوٹے اور بڑے حق کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، کیوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "اگر چہ پیلو کے درخت کی ایک چھوٹی سی ٹہنی ہی کیوں نہ ہو۔"
  3. نووی کہتے ہيں: یہ سزا اس شخص کے لیے ہے جو کسی مسلمان کا حق مارے اور توبہ کرنے سے پہلے مر جائے۔ اگر کسی نے توبہ کر لی، اپنے کیے پر نادم ہوا، حق والے کو اس کا حق لوٹا دیا، معافی تلافی کرا لی اور دوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا پکا ارادہ کر لیا، تو اس کا گناہ ختم ہو گیا۔
  4. قاضی کہتے ہيں: یہاں مسلمانوں کا ذکر بطور خاص اس لیے ہوا ہے کہ وہی شریعت کے مخاطب اور اس پر عمل کرنے والے عام لوگ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غیر مسلم کا حق چھینا جا سکتا ہے۔ مسلمان کی طرح غیر مسلم کا حق بھی چھینا نہیں جا سکتا۔
  5. نووی کہتے ہیں: کذب یعنی جھوٹ کسی چیز کے بارے میں اس کی حقیقت کے برخلاف بتانے کا نام ہے۔ خواہ بتانے کا کام عمدًا ہو یا سہوًا۔ اس چیز کا تعلق ماضی سے ہو یا مستقبل سے۔
حوالہ

صحيح مسلم (1/ 122) (137). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 239). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 309).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
غصب کرنا

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com