سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Leasing

1 احادیث

”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ: رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا: ایک وہ آدمی جس نے میرے نام سے عہد کیا، پھر اسے توڑ دیا، دوسرا وہ آدمی جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھا لی، اور تیسرا وہ آدمی جس نے کسی مزدور کو اجرت پر رکھا، اس سے پورا کام تو لے لیا لیکن اسے اس کی مزدوری نہیں دی۔“
رواه البخاريدرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، اور جس سے میں جھگڑوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: 1: جو اللہ کی قسم کھا کر کوئی معاہدہ کرے، پھر اسے توڑ ڈالے اور دھوکہ کر ڈالے۔ 2: جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنا کر بیچ دے، پھر اس کی قیمت کھا جائے اور اس میں تصرف کرے۔ 3: وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے اور اس سے پورا کام لے لے، لیکن اسے اس کی مزدوری نہ دے۔

فوائد
  1. یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس کے ذریعے چیلنج دیا جانا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
  2. سندھی کہتے ہيں: کہا گیا ہے کہ تین کا ذکر تخصیص کے لیے نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی تمام ظالموں کا فریق مخالف ہے، بلکہ یہ ان تینوں کی شدید نکیر کے لیے ہے۔
  3. ابن الجوزی فرماتے ہیں: آزاد اللہ کا بندہ ہے، جس نے اس پر زیادتی کی تو اس کا فریقِ مخالِف اس کا آقا ہے، جو کہ اللہ ہے۔
  4. خطابی کہتے ہیں: کسی آزاد کو غلام بنانا دو طرح سے ہوتا ہے: ایک یہ کہ اسے آزاد کر دے، پھر اس بات کو چھپا لے یا اس کا انکار کر دے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آزاد کرنے کے بعد اس سے زبردستی خدمت لے۔ ان دونوں میں پہلی صورت زیادہ سنگین ہے۔ میں کہتا ہوں: اس باب کی حدیث زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ اس میں آزاد کرنے کی بات کو چھپانے یا اس کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے بیچ کر اس کی قیمت کھا جانے کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس پر وعید زیادہ سخت ہے۔
حوالہ

صحيح البخاري (3/ 90) (2270). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام (4/ 252). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (4/ 108). مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (14/ 211).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com