”اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن کا قیامت کے دن میں فریقِ مخالف ہوں گا
اللہ کے نبی ﷺ نے بتایا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: تین قسم کے لوگ ہیں جن سے قیامت کے دن میں خود جھگڑوں گا، اور جس سے میں جھگڑوں گا، میں اس پر غالب آ جاؤں گا: 1: جو اللہ کی قسم کھا کر کوئی معاہدہ کرے، پھر اسے توڑ ڈالے اور دھوکہ کر ڈالے۔ 2: جو شخص کسی آزاد آدمی کو غلام بنا کر بیچ دے، پھر اس کی قیمت کھا جائے اور اس میں تصرف کرے۔ 3: وہ شخص جو کسی مزدور کو اجرت پر رکھے اور اس سے پورا کام لے لے، لیکن اسے اس کی مزدوری نہ دے۔
- یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے، جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے رب سے روایت کیا ہے۔ اس طرح کی حدیث کو حدیث قدسی یا حدیث الہی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد وہ حدیث ہے، جس کے لفظ اور معنی دونوں اللہ کے ہوں۔ البتہ اس کے اندر قرآن کی خصوصیات، جیسے اس کی تلاوت کا عبادت ہونا، اس کے لیے طہارت حاصل کرنا، اس کا معجزہ ہونا اور اس کے ذریعے چیلنج دیا جانا وغیرہ نہیں پائی جاتیں۔
- سندھی کہتے ہيں: کہا گیا ہے کہ تین کا ذکر تخصیص کے لیے نہیں ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی تمام ظالموں کا فریق مخالف ہے، بلکہ یہ ان تینوں کی شدید نکیر کے لیے ہے۔
- ابن الجوزی فرماتے ہیں: آزاد اللہ کا بندہ ہے، جس نے اس پر زیادتی کی تو اس کا فریقِ مخالِف اس کا آقا ہے، جو کہ اللہ ہے۔
- خطابی کہتے ہیں: کسی آزاد کو غلام بنانا دو طرح سے ہوتا ہے: ایک یہ کہ اسے آزاد کر دے، پھر اس بات کو چھپا لے یا اس کا انکار کر دے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آزاد کرنے کے بعد اس سے زبردستی خدمت لے۔ ان دونوں میں پہلی صورت زیادہ سنگین ہے۔ میں کہتا ہوں: اس باب کی حدیث زیادہ سنگین ہے؛ کیوں کہ اس میں آزاد کرنے کی بات کو چھپانے یا اس کا انکار کرنے کے ساتھ ساتھ، اسے بیچ کر اس کی قیمت کھا جانے کا عمل بھی پایا جاتا ہے۔ اسی لیے اس پر وعید زیادہ سخت ہے۔
صحيح البخاري (3/ 90) (2270). فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام (4/ 252). إرشاد الساري لشرح صحيح البخاري (4/ 108). مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (14/ 211).