سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

شراکت

1 احادیث

اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے!

عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إنَّ الأشعريين إذا أرمَلُوا في الغَزْوِ، أو قَلَّ طعامُ عِيالِهم بالمدينةِ، جَمَعُوا ما كان عندهم في ثوبٍ واحدٍ، ثم اقتَسَمُوه بينهم في إناءٍ واحدٍ بالسَّوِيَّةِ، فَهُم مِنِّي وأنا مِنهُم".
ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”اشعری قبیلے کے لوگ جب کسی جنگ میں مفلس ہوجائیں یا پھر مدینہ میں ان کے پاس اپنے اہل و عیال کے لیے توشہ کم ہوجائے تو ان کے پاس جو کچھ بھی ہوتا ہے اسے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں اور پھر اسے ایک برتن میں ڈال کر اپنے مابین برابر تقسیم کرلیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں“۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

اشعری لوگ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے قبیلے کے لوگ ہیں۔ جب ان کے پاس کھانے کی کمی ہوتی یا پھر وہ اللہ کے راستے میں جہاد پر ہوتے تو اپنے کھانے کو اکٹھا کر کے برابر برابر باہم تقسیم کرلیتے ۔ اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ اس بات کے سزاوار ٹھہرے کہ ان کی رسول اللہ ﷺ کی طرف شرف و محبت کی نسبت ہو اور آپ ﷺ بھی انہی میں سے ہیں یعنی ایثار و فرمانبرداری کے عظیم اخلاقی صفت کی راہ پر گامزن ہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري , ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار طوق النجاة, الطبعة: الأولى، 1422هـ. صحيح مسلم, ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي, دار إحياء التراث العربي, بيروت. فتح الباري لابن حجر العسقلاني ,رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي- قام بإخراجه وصححه وأشرف على طبعه: محب الدين الخطيب- عليه تعليقات العلامة: عبد العزيز بن عبد الله بن باز.دار المعرفة, ط بدون, 1379ه. شرح مسلم للنووي, دار إحياء التراث, ط2, 1392ه. تطريز رياض الصالحين لفيصل بن عبد العزيز المبارك النجدي, تحقيق: عبد العزيز آل حمد, دار العاصمة , الطبعة: الأولى، 1423هـ. بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين لسليم الهلالي, دار ابن الجوزي،الطبعة الأولى 1418ه. شرح رياض الصالحين لابن عثيمين , دار الوطن للنشر، الرياض, الطبعة: 1426 هـ. كنوز رياض الصالحين بإشراف حمد العمار, دار كنوز إشبيليا, الطبعة الأولى, 1430ه. نزهة المتقين شرح رياض الصالحين لمجموعة من الباحثين, مؤسسة الرسالة, الطبعة الرابعة عشرة, 1407ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com