سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے ہمسائے کا بھی خیال رکھا کرو۔

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضيَ اللهُ عنهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ».
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم کوئی شوربے والی چیز پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لیا کرو اور اپنے ہمسائے کا بھی خیال رکھا کرو“۔
اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اسلام جس انداز میں پڑوسی کا خیال رکھتا ہے اس کی وضاحت کرتی ہے۔ اسلام انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ اگر اللہ نے اسے کشادہ رزق سے نوازا ہو تو وہ اچھے انداز میں اس میں سے کچھ اپنے پڑوسی کو بھی دے۔ کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:" جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس میں پانی کچھ زیادہ کر لو اور اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھو۔" یعنی پانی کچھ زیادہ کر لو تاکہ یہ زیادہ ہو جائے اور اس میں سے تمہارے پڑوسیوں میں بھی کچھ بانٹ دیا جائے۔ شوربہ عموما گوشت یا بطورِ سالن استعمال ہونے والی دیگر اشیاء سے تیار ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پاس شوربے کے علاوہ کوئی اور شے ہو تو تب بھی ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے پینے کی اشیاء مثلا بچا ہوا دودھ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور شے تو مناسب یہی ہے کہ آپ اس کے ذریعے اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال رکھیں کیونکہ ان کا آپ پر حق ہے۔

حوالہ

صحيح مسلم (4/ 2025) (2625). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 386). شرح رياض الصالحين، لابن عثيمين (3/ 175). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 301).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
صلح اور ہمسائیگی کے احکام

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com