ابو المنہال نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے بیع صرف کا حکم دریافت کیا۔ بیع صرف سے مراد ثمن (سونا، چاندی) کو ایک دوسرے کے ساتھ بیچنا ہے۔ اپنے تقوی کی بنا پر ان (دونوں صحابہ) میں سے ہر ایک فتوی کو دوسرے کی طرف ریفر کرنے لگا (کہ اس سے پوچھ لیا جائے۔) اور ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے مقابلے میں اپنے آپ کو کم تر سمجھ رہا تھا۔ تاہم یہ حدیث دونوں ہی کو یاد تھی کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے سونے کے بدلے چاندی ادھار بیچنے سے روکا ہے۔ کیونکہ ان میں علتِ ربا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اس صورت میں ضروری ہے کہ مجلسِ عقد ہی میں ان پر قبضہ کیا جائے ورنہ بیع صرف درست نہیں ہو گی اور یہ ربا النسیئہ بن جائے گی۔ نوٹ: ’ربا‘ لین دین کی ایک حرام صورت ہے جس کی دو قسمیں ہیں: اول: ربا الدیون: اس سے مراد یہ ہے کہ قرض کی پہلے سے موجود مقدار میں قرض کی ادائیگی کی مدت میں بڑھوتری کی وجہ سے اضافہ کردیا جائے۔ دوم: ربا البیوع: اس سے مراد کچھ اشیاء میں بڑھوتری کرنا یا پھر ان کی ادائیگی میں تاخیر کرنا ہے۔ ان اشیاء کو ربوی اشیاء کہا جاتا ہے مثلاً سونے کی سونے کے بدلے میں بیع اور گندم کی گندم کے بدلے میں بیع۔
- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب-الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - منحة العلام في شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله الفوزان، طبعة دار ابن الجوزي -الطبعة الأولى- 1428 - توضيح الأحكام شرح بلوغ المرام، تأليف عبد الله البسام، مكتبة الأسدي -مكة المكرمة- الطبعة الخامِسَة، 1423 هـ - 2003 م. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية، 1392هـ. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق -مكتبة الصحابة- الشارقة - الطبعة العاشرة- 1426.