سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

رسو ل اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔

عن أبي مسعود رضي الله عنه «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الكلب، ومَهْرِ البغي، وحُلْوَانِ الكَاهِنِ».
ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، فاحشہ کی اجرت اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
متفق علیہدرجہصحیح
تشریح

روزی تلاش کرنے کے بہت سے عمدہ، معزز اور پاکیزہ راستے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے خبیث اور رذیل کے مقابلہ بنایا ہے۔ چونکہ پہلے(پاکیزہ) راستے دوسرے راستوں کے بنسبت کفایت گزار ہیں، نیز ان غلط راستوں کے نقصانات اول الذکر راستوں کے بالمقابل زیادہ ہیں، چنانچہ شریعت نے ان ناپاک راستوں کوحرام قرار دیا۔ ذیل کے تینوں اقسام کے معاملات انہی ناپاک راستوں میں سے ہیں۔ 1- کتے کا بیچنا۔ اس لیے کہ یہ ناپاک اور خبیث ہے۔ 2- بعینہ فاحشہ عورت کا اپنے گناہ کے بدلے اجرت لینا، جس سے دین و دنیا دونوں برباد ہوتے ہیں۔ 3- اسی میں جھوٹ اور گمراہ کرنے والے لوگ کی (ٹھگی کرکے) کمائی کرنا بھی شامل ہے، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ غیب جانتے ہیں، کائنات میں تصرف کرتے ہیں اور لوگوں کے ذہنوں میں غلط خیالات ڈال کر ان کے اموال حاصل کرکے انہیں باطل طریقے سے کھاتے ہیں۔ یہ تمام خبیث راستے ناجائز اور حرام ہیں اور ان کا اختیار کرنا اور ان کی کمائی لینا بھی حرام ہے۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جائز اور اچھے راستے فراہم کيے ہیں۔

حوالہ

- صحيح البخاري، للإمام أبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري، عناية محمد زهير الناصر، دار طوق النجاة، الطبعة الأولى، 1422هـ. - صحيح مسلم، للإمام مسلم بن الحجاج، حققه ورقمه محمد فؤاد عبد الباقي، دار عالم الكتب - الرياض، الطبعة الأولى، 1417هـ. - فتح ذي الجلال والإكرام بشرح بلوغ المرام، للشيخ ابن عثيمين- المكتبة الإسلامية، القاهرة، تحقيق صبحي رمضان وأم إسراء بيومي، الطبعة الأولى، 1427ه. - الإلمام بشرح عمدة الأحكام، للشيخ إسماعيل الأنصاري -مطبعة السعادة- الطبعة الثانية، 1392ه. - تيسير العلام شرح عمدة الأحكام، عبد الله البسام، تحقيق محمد صبحي حسن حلاق -مكتبة الصحابة- الشارقة، الطبعة العاشرة، 1426ه.

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
بیع کی شرائط

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com