حدیث کا مفہوم: خرید و فروخت میں بہت زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو اگرچہ سچی ہی ہوں کیوں کہ بہت زیادہ قسمیں کھانے سے جھوٹ میں پڑنے کا امکان ہے۔ مثلاً انسان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یوں کہے: اللہ کی قسم! میں نے اس چیز کو سو میں خریدا ہے اگرچہ وہ سچا ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے اسے سو میں خریدا ہے حالانکہ اس نے اسے اسّی (80) میں خریدا ہو تو یہ اور بھی شدید ظلم ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بیع میں جھوٹ بولنے والا اور جھوٹی قسم کھانے والا ہو گا جب کہ نبی ﷺ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور آپ ﷺ نے خبر دی ہے کہ خرید و فروخت میں قسمیں اٹھانے سے سامان تجارت تو آناً فاناً بک جاتا ہے، تاہم اللہ تعالی اس سے برکت ختم کر دیتا ہے۔ کیونکہ یہ کمائی رسول ﷺ کی نافرمانی سے حاصل ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی درحقیقت اللہ ہی کی نافرمانی ہے۔
نزهة المتقين، تأليف: جمعٌ من المشايخ، الناشر: مؤسسة الرسالة، الطبعة الأولى: 1397 هـ الطبعة الرابعة عشر 1407 هـ كنوز رياض الصالحين، تأليف: حمد بن ناصر بن العمار ، الناشر: دار كنوز أشبيليا، الطبعة الأولى: 1430 هـ صحيح مسلم، تأليف: مسلم بن الحجاج النيسابوري، تحقيق: محمد فؤاد عبد الباقي الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت. رياض الصالحين، تأليف : محيي الدين يحيى بن شرف النووي ، تحقيق: د. ماهر بن ياسين الفحل ، الطبعة: الأولى، 1428 هـ شرح رياض الصالحين، تأليف: محمد بن صالح العثيمين، الناشر: دار الوطن للنشر، الطبعة: 1426 هـ.