سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔

عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ العَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ، فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ، فَيَبِيعَهَا، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ».
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اپنی رسیاں لے کر پہاڑ پر چڑھ جائے اور وہاں سے لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لے آئے اور انھیں بیچ دے اور اس سے اللہ اسے مانگنے سے بچا لے، تو یہ اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے کہ لوگ چاہیں تو دیں یا نہ دیں“۔
اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔درجہصحیح
تشریح

آدمی اپنے ہاتھ سے کمائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ چاہیں تو دیں اور چاہیں تو نہ دیں۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی لے کر چراگاہوں، کھیتوں اور جنگلوں کی طرف نکل جاتا ہے اور لکڑیاں اکٹھی کر کے اور انھیں اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتا ہے، پھر انھیں بیچتا ہے اور اس طرح سے اپنی عزت و شرافت کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے آپ کو مانگنے کی ذلت سے بچاتا ہے، تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے، چاہے وہ اسے دیں یا نہ دیں۔ لوگوں سے مانگنا ذلت ہے جب کہ مؤمن صاحب عزت ہوتا ہے، ذلیل نہیں۔

حوالہ

صحيح البخاري (2/ 123) (1471). بهجة الناظرين، لسليم الهلالي (1/ 597). نزهة المتقين، لمجموعة من الباحثين (1/ 469). الأدب النبوي، لمحمد الشاذلي (ص33).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
بیع وشراء

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com