سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

Meanings and Attributes of the Qur'an

1 احادیث

ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں جن کی مثل پر لوگ ایمان لائے

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنَ الأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا أُعْطِيَ مَا مِثْلهُ آمَنَ عَلَيْهِ البَشَرُ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ القِيَامَةِ».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: "ہر نبی کو ایسی نشانیاں دی گئیں جن کی مثل پر لوگ ایمان لائے، اور مجھے جو (معجزہ) دیا گیا ہے وہ وحی ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجی ہے، چنانچہ میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے پیروکار ان سب سے زیادہ ہوں گے"۔
متفق عليهدرجہصحيح
تشریح

نبی ﷺ نے ذکر فرمایا کہ اللہ تعالى نے تمام انبیاء کرام کی تائید فرمائی اور انہیں ایسی خارق عادت آیات اور معجزات عطا فرمائے جن سے آپ کی نبوت پر استدلال کیا جاتا ہے اور جو آپ کے دیکھنے والوں سے آپ کی سچائی پر ایمان لانے کا تقاضا کرتے ہیں، نیز یہ کہ چیلنج کے مقابلے میں وہ عاجز آجاتا ہے، اس طور پر کہ وہ اسے خود سے دفع کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، لیکن بسا اوقات وہ انکار کرتا اور عناد برتتا ہے۔ آپﷺ کا معجزہ اور نشانی وہ قرآن ہے جسے اللہ نے آپ کی طرف وحی کی۔ یہ اپنے کثیر فائدے، عمومی افادیت، دعوت وحجت اور مستقبل کی خبروں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایک واضح اور دائمی معجزہ ہے۔ چنانچہ اس کی افادیت ہر حاضر وغائب اور ہر موجود اور آئندہ آنے والے کے لیے عام ہو گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ پیروکار میرے ہوں گے۔

فوائد
  1. انبیاء کے لیے نشانیوں کا اثبات امتوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا فضل ہے۔
  2. نبی ﷺ کے عظیم معجزے کا بیان۔
  3. نبی ﷺ کی عظمتِ شان اور تمام انبیائے کرام پر آپ ﷺ کی فضیلت وبرتری کا بیان۔
  4. ابن حجر آپ ﷺ کے فرمان ”وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ“ کے بارے میں فرماتے ہیں: اس سے مراد آپ ﷺ کے معجزات کو اسی میں محصور کرنا نہیں ہے، اور نہ یہ کہ آپ ﷺ کو وہ معجزات عطا نہیں ہوئے جو آپ سے پہلے انبیاء کو دیے گئے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ یہ (قرآن) وہ عظیم ترین معجزہ ہے جس کے ذریعہ آپ ﷺ کو دیگر انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔
  5. امام نووی فرماتے ہیں: ”فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا“ یہ نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے اس کی خبر مسلمانوں کی قلت کے زمانے میں دی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا، مسلمانوں کو فتوحات عطا کیں اور ان میں برکت ڈالی، یہاں تک کہ مسلمانوں کا معاملہ اس معروف حد تک جا پہنچا اور وسیع ہو گیا، وللہ الحمد۔
حوالہ

صحيح البخاري (6/ 182) (4981). صحيح مسلم (1/ 134) (152). عمدة القاري شرح صحيح البخاري (25/ 25). شرح النووي على مسلم (2/ 188).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com