سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

آدمی اپنے دوست کے دین پر ہو تا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أَن النبيَّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ: «الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُر أَحَدُكُم مَنْ يُخَالِل».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: "آدمی اپنے دوست کے دین پر ہو تا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔"
رواه أبو داود والترمذي وأحمددرجہحسن
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے کہ ایک انسان کی سیرت اور اخلاق ویسے ہی ہوا کرتے ہیں، جیسے اس کے ساتھی اور دوست کے ہوا کرتے ہیں۔ دوستی کا اثر اخلاق، کردار اور معاملات پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اچھے دوست کا انتخاب کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کیوں کہ اچھا دوست ایمان، ہدایت اور خیر کی راہ دکھاتا ہے اور بھلائى کے کاموں میں اپنے دوست کا مدد گار ثابت ہوتا ہے۔

فوائد
  1. اچھے لوگوں کا انتخاب کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا حکم اور برے لوگوں کے ساتھ رہنے کی ممانعت۔
  2. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں دوست کا ذکر کیا ہے، رشتے دار کا نہیں، کیوں کہ دوست کا انتخاب انسان کرتا ہے اور رشتے داروں کے انتخاب میں اس کا ہاتھ نہيں ہوتا۔
  3. کسی سے دوستی سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔
  4. انسان ایمان والوں کی صحبت سے اپنے دین کو مضبوط کرتا ہے اور فساق کی صحبت سے اسے کمزور کرتا ہے۔
حوالہ

سنن أبي داود (7/ 204) (4833). سنن الترمذي (4/ 187) (2378). مسند أحمد (13/ 398) (8028). بهجة الناظرين شرح رياض الصالحين، لسليم الهلالي (1/ 433). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، للمباركفوري (7/ 51). تطريز رياض الصالحين، لفيصل آل مبارك (ص250). كنوز رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (6/ 166). نزهة المتقين شرح رياض الصالحين، لمجموعة من الباحثين (1/ 341).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
ولاء وبراء کے احکام (وفاداری اور بیزاری کے احکام)

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com