سیدھے مواد پر جائیں
تشریح کے ساتھ احادیث

حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہيں"۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الحَسَن والحُسَيْن سَيِّدا شَباب أهْل الجنة».
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہيں"۔
رواه الترمذي وأحمددرجہصحيح
تشریح

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بتایا کہ آپ کے دونوں نواسے یعنی علی بن ابی طالب و فاطمہ بنت رسول کے دونوں بیٹے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما فضیلت کے اعتبار سے جوانی کی حالت میں فوت ہونے والے اور جنت میں داخل ہونے والے تمام لوگوں کے سردار ہوں گے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں نبیوں اور خلفائے راشدین کو چھوڑ کر تمام جنتی جوانوں کے سردار ہوں گے۔

فوائد
  1. حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی ایک واضح فضیلت۔
  2. اس حدیث کے کئی معانی بیان کیے گئے ہيں: ایک یہ کہ دونوں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے یہ حدیث نکلتے وقت اس زمانے میں موجود جنت کے حق دار جوانوں کے سردار ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ دونوں انبیا اور خلفا کے علاوہ ان تمام لوگوں سے افضل ہیں، جن کی عام فضیلت ثابت نہيں ہے۔ تیسرا یہ کہ دونوں جواں مردی، سخاوت اور شجاعت وغیرہ جیسی جوانی کی صفات سے متصف لوگوں کے سردار ہوں گے۔ یہاں مراد جوانی نہیں ہے۔ کیوں کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کا انتقال ادھیڑ عمر میں ہوا تھا۔
حوالہ

سنن الترمذي (6/ 113) (3768). مسند أحمد (17/ 31) (10999). حاشية السندي على سنن ابن ماجه، محمد بن عبد الهادي التتوي (1/ 56). تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي، محمد المباركفوري (10/ 178). المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، لأحمد الفيومي (1/ 294).

یہ حدیث HadeethEnc.com پر
اہل بیت کی فضیلت

یہاں ہر حدیث، درجہ، تشریح اور فائدہ بالکل اسی طرح دکھایا گیا ہے جیسے HadeethEnc.com اسے شائع کرتا ہے، دوبارہ اشاعت کی اس کی شرائط کے تحت۔ درجے کے ساتھ حکم لگانے والے کا نام درج نہیں۔ تراجم اور تشریحات اس کے مصنفین کی اپنی ہیں، اور بعض میں احکام بیان ہوئے ہیں؛ سبیل کے جائزہ کاروں نے انہیں نہیں جانچا۔ عربی حدیث ہی اصل متن ہے۔ ماخذ: HadeethEnc.com