سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 7531

نمبر 7531کتاب 97، نمبر 156
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا وَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَتَمَ شَيْئًا مِنَ الْوَحْىِ، فَلاَ تُصَدِّقْهُ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ ‏{‏يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ‏}‏
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر کوئی تم سے یہ بیان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز چھپائی، ( اور دوسری سند ) اور محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں کچھ چھپا لیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ( وہ جھوٹا ہے ) کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته‏» کہ ”اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ پیغام جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو آپ اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔“

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 97 · Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔