سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 4724

نمبر 4724کتاب 65، نمبر 246
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَرَقَهُ وَفَاطِمَةَ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تُصَلِّيَانِ ‏"‏‏.‏ ‏{‏رَجْمًا بِالْغَيْبِ‏}‏ لَمْ يَسْتَبِنْ‏.‏ ‏{‏فُرُطًا‏}‏ نَدَمًا ‏{‏سُرَادِقُهَا‏}‏ مِثْلُ السُّرَادِقِ، وَالْحُجْرَةِ الَّتِي تُطِيفُ بِالْفَسَاطِيطِ، ‏{‏يُحَاوِرُهُ‏}‏ مِنَ الْمُحَاوَرَةِ ‏{‏لَكِنَّا هُوَ اللَّهُ رَبِّي‏}‏ أَىْ لَكِنْ أَنَا هُوَ اللَّهُ رَبِّي ثُمَّ حَذَفَ الأَلِفَ وَأَدْغَمَ إِحْدَى النُّونَيْنِ فِي الأُخْرَى‏.‏ ‏{‏زَلَقًا‏}‏ لاَ يَثْبُتُ فِيهِ قَدَمٌ‏.‏ ‏{‏هُنَالِكَ الْوَلاَيَةُ‏}‏ مَصْدَرُ الْوَلِيِّ‏.‏ ‏{‏عُقُبًا‏}‏ عَاقِبَةٌ وَعُقْبَى وَعُقْبَةٌ وَاحِدٌ وَهْىَ الآخِرَةُ قِبَلاً وَقُبُلاً وَقَبَلاً اسْتِئْنَافًا ‏{‏لِيُدْحِضُوا‏}‏ لِيُزِيلُوا، الدَّحْضُ الزَّلَقُ‏.‏
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھے علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں علی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت ان کے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئے اور فرمایا۔ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے ( آخر حدیث تک ) ۔ «رجما بالغيب‏» یعنی سنی سنائی اور ان کو خود کچھ علم نہیں۔ «فرطا‏» ندامت، شرمندگی۔ «سرادقها‏» یعنی قناتوں کی طرح سب طرف سے ان کو آگ گھیر لے گی جیسے کوٹھری کو سب طرف سے خیمے گھیر لیتے ہیں۔ «يحاوره‏»،‏‏‏‏ «محاورة» سے نکلا ہے یعنی گفتگو کرنا، تکرار کرنا۔ «لكنا هو الله ربي‏» اصل میں «لكن أنا هو الله ربي» تھا «أنا» کا ہمزہ حذف کر کے نون کو نون میں ادغام کر دیا «لكنا» ہو گیا۔ «خلالهما نهرا» یعنی «بينهما» ان کے بیچ میں۔ «زلقا» چکنا، صاف جس پر پاؤں پھسلے ( جمے نہیں ) ۔ «هنالك الولاية‏»،‏‏‏‏ «ولايت‏»،‏‏‏‏ «ولي» کا مصدر ہے۔ «عقبا‏»،‏‏‏‏ «عاقبت» اسی طرح «عقبى» اور «عقبة» سب کا ایک ہی معنی ہے یعنی آخرت۔ «قبلا» اور «قبلا» اور «قبلا» ( تینوں طرح پڑھا ہے ) یعنی سامنے آنا۔ «ليدحضوا‏»،‏‏‏‏ «دحض» سے نکلا ہے یعنی پھسلانا ( مطلب یہ ہے کہ حق بات کو ناحق کریں ) ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 65 · Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔