سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 4683

نمبر 4683کتاب 65، نمبر 205
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏أَلاَ إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَلاَ حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ‏}‏ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‏{‏يَسْتَغْشُونَ‏}‏ يُغَطُّونَ رُءُوسَهُمْ ‏{‏سِيءَ بِهِمْ‏}‏ سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ‏.‏ ‏{‏وَضَاقَ بِهِمْ‏}‏ بِأَضْيَافِهِ ‏{‏بِقِطْعٍ مِنَ اللَّيْلِ‏}‏ بِسَوَادٍ‏.‏ وَقَالَ مُجَاهِدٌ ‏{‏أُنِيبُ‏}‏ أَرْجِعُ‏.‏
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی «ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم‏» اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ «يستغشون‏» یعنی اپنے سر چھپا لیتے ہیں۔ «سيء بهم‏» یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ «وضاق بهم‏» یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ «بقطع من الليل‏» یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا «أنيب‏» کے معنی میں رجوع کرتا ہوں ( متوجہ ہوتا ہوں ) ۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 65 · Prophetic Commentary on the Qur'an (Tafseer of the Prophet (pbuh))

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔