نمبر 4577کتاب 65، نمبر 99
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مُنْكَدِرٍ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ عَادَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ فِي بَنِي سَلِمَةَ مَاشِيَيْنِ فَوَجَدَنِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لاَ أَعْقِلُ، فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ، ثُمَّ رَشَّ عَلَىَّ، فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَصْنَعَ فِي مَالِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَزَلَتْ {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی، بیان کیا کہ مجھے ابن منکدر نے خبر دی اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ قبیلہ بنو سلمہ تک پیدل چل کر میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مجھ پر بے ہوشی طاری ہے، اس لیے آپ نے پانی منگوایا اور وضو کر کے اس کا پانی مجھ پر چھڑکا، میں ہوش میں آ گیا، پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا حکم ہے، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يوصيكم الله في أولادكم» کہ ”اللہ تمہیں تمہاری اولاد ( کی میراث ) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔“
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔