نمبر 4459کتاب 64، نمبر 475
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا أَزْهَرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالَتْ مَنْ قَالَهُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَإِنِّي لَمُسْنِدَتُهُ إِلَى صَدْرِي، فَدَعَا بِالطَّسْتِ فَانْخَنَثَ فَمَاتَ، فَمَا شَعَرْتُ، فَكَيْفَ أَوْصَى إِلَى عَلِيٍّ
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو ازہر بن سعد سمان نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے اسود بن یزید نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس کا ذکر آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو کوئی ( خاص ) وصیت کی تھی؟ تو انہوں نے بتلایا کون کہتا ہے، میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی، آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ نے طشت منگوایا، پھر ایک طرف جھک گئے اور آپ کی وفات ہو گئی۔ اس وقت مجھے بھی کچھ معلوم نہیں ہوا، پھر علی رضی اللہ عنہ کو آپ نے کب وصی بنا دیا۔
ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔