سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 4194

نمبر 4194کتاب 64، نمبر 234
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الأَكْوَعِ، يَقُولُ خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ، بِالأُولَى، وَكَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَرْعَى بِذِي قَرَدٍ ـ قَالَ ـ فَلَقِيَنِي غُلاَمٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ‏.‏ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلاَثَ صَرَخَاتٍ ـ يَا صَبَاحَاهْ ـ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لاَبَتَىِ الْمَدِينَةِ، ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَى وَجْهِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُمْ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْتَقُونَ مِنَ الْمَاءِ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي، وَكُنْتُ رَامِيًا، وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعْ، الْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ‏.‏ وَأَرْتَجِزُ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ، وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً، قَالَ وَجَاءَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَاءَ وَهُمْ عِطَاشٌ، فَابْعَثْ إِلَيْهِمُ السَّاعَةَ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ يَا ابْنَ الأَكْوَعِ، مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ ‏"‏‏.‏ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى نَاقَتِهِ حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ‏.‏
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ‘ کہا میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں فجر کی اذان سے پہلے ( مدینہ سے باہر غابہ کی طرف نکلا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دودھ دینے والی اونٹنیاں ذات القرد میں چرا کرتی تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ راستے میں مجھے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ملے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئیں ہیں۔ میں پوچھا کہ کس نے پکڑا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ قبیلہ غطفان والوں نے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے تین مرتبہ بڑی زور زور سے پکارا ‘ یا صباحاہ! انہوں نے بیان کیا کہ اپنی آواز میں نے مدینہ کے دونوں کناروں تک پہنچا دی اور اس کے بعد میں سیدھا تیزی کے ساتھ دوڑتا ہوا آگے بڑھا اور آخر انہیں جا لیا۔ اس وقت وہ جانوروں کو پانی پلانے کے لیے اترے تھے۔ میں نے ان پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔ میں تیر اندازی میں ماہر تھا اور یہ شعر کہتا جاتا تھا ”میں ابن الاکوع ہوں ‘ آج ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے“ میں یہی رجز پڑھتا رہا اور آخر اونٹنیاں ان سے چھڑا لیں بلکہ تیس چادریں ان کی میرے قبضے میں آ گئیں۔ سلمہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کو ساتھ لے کر آ گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے تیر مار مار کر ان کو پانی نہیں دیا اور وہ ابھی پیاسے ہیں۔ آپ فوراً ان کے تعاقب کے لیے فوج بھیج دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن الاکوع! جب تو کسی پر قابو پا لے تو نرمی اختیار کر۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ پھر ہم واپس آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنی اونٹنی پر پیچھے بٹھا کر لائے یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آ گئے۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 64 · Military Expeditions led by the Prophet (pbuh) (Al-Maghaazi)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔