سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 3355

نمبر 3355کتاب 60، نمبر 30
حَدَّثَنِي بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ وَذَكَرُوا لَهُ الدَّجَّالَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ أَوْ ك ف ر‏.‏ قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ وَلَكِنَّهُ قَالَ ‏ "‏ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ، وَأَمَّا مُوسَى فَجَعْدٌ آدَمُ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِي ‏"‏‏.‏
ہم سے بیان بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں مجاہد نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا آپ کے سامنے لوگ دجال کا تذکرہ کر رہے تھے کہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہو گا ”کافر“ یا ( یوں لکھا ہوا ہو گا ) ”ک ف ر“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ حدیث نہیں سنی تھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ یہ حدیث بیان فرمائی کہ ابراہیم علیہ السلام ( کی شکل و وضع معلوم کرنے ) کے لیے تم اپنے صاحب کو دیکھ سکتے ہو اور موسیٰ علیہ السلام کا بدن گٹھا ہوا، گندم گوں، ایک سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ جس کی نکیل کھجور کی چھال کی تھی۔ جیسے میں انہیں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہوئے وادی میں اتر رہے ہیں۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 60 · Prophets

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔