سیدھے مواد پر جائیں
صحیح بخاری

نمبر 2361

نمبر 2361کتاب 42، نمبر 9
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ أَرْسِلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ إِنَّهُ ابْنُ عَمَّتِكَ‏.‏ فَقَالَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ يَبْلُغُ الْمَاءُ الْجَدْرَ، ثُمَّ أَمْسِكْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الزُّبَيْرُ فَأَحْسِبُ هَذِهِ الآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ ‏{‏َلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ‏}‏‏.‏ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَيْسَ أَحَدٌ يَذْكُرُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، إِلاَّ اللَّيْثُ فَقَطْ‏.‏
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، ان سے عروہ نے بیان کیا، کہ زبیر رضی اللہ عنہ سے ایک انصاری رضی اللہ عنہ کا جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زبیر! پہلے تم ( اپنا باغ ) سیراب کر لو، پھر پانی آگے کے لیے چھوڑ دینا، اس پر انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زبیر! اپنا باغ اتنا سیراب کر لو کہ پانی اس کی منڈیروں تک پہنچ جائے اتنے روک رکھو، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت «لا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم‏» ”ہرگز نہیں، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک آپ کو اپنے تمام اختلافات میں حکم نہ تسلیم کر لیں۔“ اسی باب میں نازل ہوئی۔

ماخذ میں اس روایت کا کوئی درجہ درج نہیں۔

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 42 · Distribution of Water

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔