سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 1572

نمبر 1572کتاب 9، نمبر 17
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَعَنِ الْحَارِثِ الأَعْوَرِ، عَنْ عَلِيٍّ، - رضى الله عنه - قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ هَاتُوا رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ شَىْءٌ حَتَّى تَتِمَّ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ فَعَلَى حِسَابِ ذَلِكَ وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلاَّ تِسْعًا وَثَلاَثِينَ فَلَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا شَىْءٌ ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ صَدَقَةَ الْغَنَمِ مِثْلَ الزُّهْرِيِّ قَالَ ‏"‏ وَفِي الْبَقَرِ فِي كُلِّ ثَلاَثِينَ تَبِيعٌ وَفِي الأَرْبَعِينَ مُسِنَّةٌ وَلَيْسَ عَلَى الْعَوَامِلِ شَىْءٌ وَفِي الإِبِلِ ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ صَدَقَتَهَا كَمَا ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ قَالَ ‏"‏ وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسَةٌ مِنَ الْغَنَمِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ سَاقَ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ قَالَ ‏"‏ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً - يَعْنِي وَاحِدَةً وَتِسْعِينَ - فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِنْ كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَلاَ تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ وَفِي النَّبَاتِ مَا سَقَتْهُ الأَنْهَارُ أَوْ سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَمَا سَقَى الْغَرْبُ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ وَالْحَارِثِ ‏"‏ الصَّدَقَةُ فِي كُلِّ عَامٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ أَحْسَبُهُ قَالَ ‏"‏ مَرَّةً ‏"‏ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ عَاصِمٍ ‏"‏ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي الإِبِلِ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَلاَ ابْنُ لَبُونٍ فَعَشَرَةُ دَرَاهِمَ أَوْ شَاتَانِ ‏"‏ ‏.‏
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( ( زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چالیسواں حصہ نکالو، ہر چالیس ( ۴۰ ) درہم میں ایک ( ۱ ) درہم، اور جب تک دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے نہ ہوں تم پر کچھ لازم نہیں آتا، جب دو سو ( ۲۰۰ ) درہم پورے ہوں تو ان میں پانچ ( ۵ ) درہم زکاۃ کے نکالو، پھر جتنے زیادہ ہوں اسی حساب سے ان کی زکاۃ نکالو، بکریوں میں جب چالیس ( ۴۰ ) ہوں تو ایک ( ۱ ) بکری ہے، اگر انتالیس ( ۳۹ ) ہوں تو ان میں کچھ لازم نہیں ، پھر بکریوں کی زکاۃ اسی طرح تفصیل سے بیان کی جو زہری کی روایت میں ہے۔ گائے بیلوں میں یہ ہے کہ ہر تیس ( ۳۰ ) گائے یا بیل پر ایک سالہ گائے دینی ہو گی اور ہر چا لیس ( ۴۰ ) میں دو سالہ گائے دینی ہو گی، باربرداری والے گائے بیلوں میں کچھ لازم نہیں ہے، اونٹوں کے بارے میں زکاۃ کی وہی تفصیل اسی طرح بیان کی جو زہری کی روایت میں گزری ہے، البتہ اتنے فرق کے ساتھ کہ پچیس ( ۲۵ ) اونٹوں میں پانچ ( ۵ ) بکریاں ہوں گی، ایک بھی زیادہ ہونے یعنی چھبیس ( ۲۶ ) ہو جانے پر پینتیس ( ۳۵ ) تک ایک ( ۱ ) بنت مخاض ہو گی، اگر بنت مخاض نہ ہو تو ابن لبون نر ہو گا، اور جب چھتیس ( ۳۶ ) ہو جائیں تو پینتالیس ( ۴۵ ) تک ایک ( ۱ ) بنت لبون ہے، جب چھیالیس ( ۴۶ ) ہو جائیں تو ساٹھ ( ۶۰ ) تک ایک ( ۱ ) حقہ ہے جو نر اونٹ کے لائق ہو جاتی ہے ، اس کے بعد اسی طرح بیان کیا ہے جیسے زہری نے بیان کیا یہاں تک کہ جب اکیانوے ( ۹۱ ) ہو جائیں تو ایک سو بیس ( ۱۲۰ ) تک دو ( ۲ ) حقہ ہوں گی جو جفتی کے لائق ہوں، جب اس سے زیادہ ہو جائیں تو ہر پچاس ( ۵۰ ) پر ایک ( ۱ ) حقہ دینا ہو گا، زکاۃ کے خوف سے نہ اکٹھا مال جدا کیا جائے اور نہ جدا مال اکٹھا کیا جائے، اسی طرح نہ کوئی بوڑھا جانور قابل قبول ہو گا اور نہ عیب دار اور نہ ہی نر، سوائے اس کے کہ مصدق کی چاہت ہو۔ ( زمین سے ہونے والی ) ، پیداوار کے سلسلے میں کہا کہ نہر یا بارش کے پانی کی سینچائی سے جو پیداوار ہوئی ہو، اس میں دسواں حصہ لازم ہے اور جو پیداوار رہٹ سے پانی کھینچ کر کی گئی ہو، اس میں بیسواں حصہ لیا جائے گا ۔ عاصم اور حارث کی ایک روایت میں ہے کہ زکاۃ ہر سال لی جائے گی۔ زہیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ہر سال ایک بار کہا۔ عاصم کی روایت میں ہے: جب بنت مخاض اور ابن لبون بھی نہ ہو تو دس درہم یا دو بکریاں دینی ہوں گی ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • DaifShuaib Al Arnaut
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 9 · Zakat (Kitab Al-Zakat)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔