سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 1388

نمبر 1388کتاب 6، نمبر 18
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَهُ ‏"‏ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي عَشْرٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً ‏.‏ قَالَ ‏"‏ اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلاَ تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ ‏.‏
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو ، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو بیس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پندرہ دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دس دن میں پڑھا کرو ، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسلم ( مسلم بن ابراہیم ) کی روایت زیادہ کامل ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Sahih Bukhari (5054) Sahih Muslim (1159)Zubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 6 · Prayer (Kitab Al-Salat): Detailed Injunctions about Ramadan

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔