سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 5176

نمبر 5176کتاب 43، نمبر 404
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، ح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ، أَخْبَرَهُ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلَبَنٍ وَجِدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ - وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِأَعْلَى مَكَّةَ - فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ فَقَالَ ‏ "‏ ارْجِعْ فَقُلِ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَذَاكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ‏.‏ قَالَ عَمْرٌو وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَقَالَ يَحْيَى أَيْضًا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ ‏.‏
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • Isnaad HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 43 · General Behavior (Kitab Al-Adab)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔