نمبر 5003کتاب 43، نمبر 231
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، ح وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " لاَ يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ أَخِيهِ لاَعِبًا وَلاَ جَادًّا " . وَقَالَ سُلَيْمَانُ " لَعِبًا وَلاَ جِدًّا " . " وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِيهِ فَلْيَرُدَّهَا " . لَمْ يَقُلِ ابْنُ بَشَّارٍ ابْنِ يَزِيدَ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
یزید بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا سامان ( بلا اجازت ) نہ لے نہ ہنسی میں اور نہ ہی حقیقت میں ۱؎ ۔ سلیمان کی روایت میں ( «لاعبا ولا جادا » کے بجائے ) «لعبا ولا جدا» ہے، اور جو کوئی اپنے بھائی کی لاٹھی لے تو چاہیئے کہ ( ضرورت پوری کر کے ) اسے لوٹا دے۔ ابن بشار نے صرف عبداللہ بن سائب کہا ہے ابن یزید کا اضافہ نہیں کیا ہے اور ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہنے کے بجائے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہا ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- HasanAl-Albani
- HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- HasanShuaib Al Arnaut
- Isnaad SahihZubair Ali Zai