سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 4861

نمبر 4861کتاب 43، نمبر 89
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سَيَّارٍ الْمُؤَدِّبُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ حَدَّثَنِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْفَغْوَاءِ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَنِي بِمَالٍ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ يَقْسِمُهُ فِي قُرَيْشٍ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْفَتْحِ فَقَالَ ‏"‏ الْتَمِسْ صَاحِبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَنِي عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ فَقَالَ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُرِيدُ الْخُرُوجَ وَتَلْتَمِسُ صَاحِبًا ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَجَلْ ‏.‏ قَالَ فَأَنَا لَكَ صَاحِبٌ ‏.‏ قَالَ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْتُ قَدْ وَجَدْتُ صَاحِبًا ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِذَا هَبَطْتَ بِلاَدَ قَوْمِهِ فَاحْذَرْهُ فَإِنَّهُ قَدْ قَالَ الْقَائِلُ أَخُوكَ الْبِكْرِيُّ وَلاَ تَأْمَنْهُ ‏"‏ ‏.‏ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالأَبْوَاءِ قَالَ إِنِّي أُرِيدُ حَاجَةً إِلَى قَوْمِي بِوَدَّانَ فَتَلْبَثُ لِي قُلْتُ رَاشِدًا فَلَمَّا وَلَّى ذَكَرْتُ قَوْلَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَشَدَدْتُ عَلَى بَعِيرِي حَتَّى خَرَجْتُ أُوضِعُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ بِالأَصَافِرِ إِذَا هُوَ يُعَارِضُنِي فِي رَهْطٍ قَالَ وَأَوْضَعْتُ فَسَبَقْتُهُ فَلَمَّا رَآنِي قَدْ فُتُّهُ انْصَرَفُوا وَجَاءَنِي فَقَالَ كَانَتْ لِي إِلَى قَوْمِي حَاجَةٌ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ أَجَلْ وَمَضَيْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ فَدَفَعْتُ الْمَالَ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ ‏.‏
عمرو بن فغواء خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، آپ مجھے کچھ مال دے کر ابوسفیان کے پاس بھیجنا چاہتے تھے، جو آپ فتح مکہ کے بعد قریش میں تقسیم فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا: کوئی اور ساتھی تلاش کر لو ، تو میرے پاس عمرو بن امیہ ضمری آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارا ارادہ نکلنے کا ہے اور تمہیں ایک ساتھی کی تلاش ہے، میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا، مجھے ایک ساتھی مل گیا ہے، آپ نے فرمایا: کون؟ میں نے کہا: عمرو بن امیہ ضمری، آپ نے فرمایا: جب تم اس کی قوم کے ملک میں پہنچو تو اس سے بچ کے رہنا اس لیے کہ کہنے والے نے کہا ہے کہ تمہارا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو اس سے مامون نہ رہو ، چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ جب ہم ابواء میں پہنچے تو اس نے کہا: میں ودان میں اپنی قوم کے پاس ایک ضرورت کے تحت جانا چاہتا ہوں لہٰذا تم میرے لیے تھوڑی دیر ٹھہرو، میں نے کہا: جاؤ راستہ نہ بھولنا، جب وہ چلا گیا تو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات یاد آئی، تو میں نے زور سے اپنے اونٹ کو بھگایا، اور تیزی سے دوڑاتا وہاں سے نکلا، یہاں تک کہ جب مقام اصافر میں پہنچا تو دیکھا کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ مجھے روکنے آ رہا ہے میں نے اونٹ کو اور تیز کر دیا، اور میں اس سے بہت آگے نکل گیا، جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اسے بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوں، تو وہ لوگ لوٹ گئے، اور وہ میرے پاس آیا اور بولا، مجھے اپنی قوم میں ایک کام تھا، میں نے کہا: ٹھیک ہے اور ہم چلتے رہے یہاں تک کہ ہم مکہ پہنچ گئے تو میں نے وہ مال ابوسفیان کو دے دیا۔
ماخذ میں درج درجات
  • DaifAl-Albani
  • DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 43 · General Behavior (Kitab Al-Adab)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔