سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 4614

نمبر 4614کتاب 42، نمبر 19
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ يَا أَبَا سَعِيدٍ أَخْبِرْنِي عَنْ آدَمَ، لِلسَّمَاءِ خُلِقَ أَمْ لِلأَرْضِ قَالَ لاَ بَلْ لِلأَرْضِ ‏.‏ قُلْتُ أَرَأَيْتَ لَوِ اعْتَصَمَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الشَّجَرَةِ قَالَ لَمْ يَكُنْ لَهُ مِنْهُ بُدٌّ ‏.‏ قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى ‏{‏ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ * إِلاَّ مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ ‏}‏ قَالَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ لاَ يَفْتِنُونَ بِضَلاَلَتِهِمْ إِلاَّ مَنْ أَوْجَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَحِيمَ ‏.‏
خالد الحذاء کہتے ہیں کہ میں نے حسن ( حسن بصری ) سے کہا: اے ابوسعید! آدم کے سلسلہ میں مجھے بتائیے کہ وہ آسمان کے لیے پیدا کئے گئے، یا زمین کے لیے؟ آپ نے کہا: نہیں، بلکہ زمین کے لیے، میں نے عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے؟ اگر وہ نافرمانی سے بچ جاتے اور درخت کا پھل نہ کھاتے، انہوں نے کہا: یہ ان کے بس میں نہ تھا، میں نے کہا: مجھے اللہ کے فرمان «ما أنتم عليه بفاتنين * إلا من هو صال الجحيم» شیاطین تم میں سے کسی کو اس کے راستے سے گمراہ نہیں کر سکتے سوائے اس کے جو جہنم میں جانے والا ہو ( الصافات: ۱۶۳ ) کے بارے میں بتائیے، انہوں نے کہا: شیاطین اپنی گمراہی کا شکار صرف اسی کو بنا سکتے ہیں جس پر اللہ نے جہنم واجب کر دی ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Hasan IsnaadAl-Albani
  • Hasan IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 42 · Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔