نمبر 4465کتاب 40، نمبر 115
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الأَحْوَصِ، وَأَبَا، بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَذَا قَالَ عَطَاءٌ وَقَالَ الْحَكَمُ أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلاَ يَبْلُغَ بِهِ الْحَدَّ . وَقَالَ الْحَسَنُ هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں: میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں: وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہو گی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ۱؎۔
ماخذ میں درج درجات
- HasanAl-Albani
- HasanMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- Isnaad HasanZubair Ali Zai