سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 3997

نمبر 3997کتاب 32، نمبر 29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، قَالَ أَنْبَأَنِي مَنْ، أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏{‏ فَيَوْمَئِذٍ لاَ يُعَذَّبُ ‏}‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَرَأَ عَاصِمٌ وَالأَعْمَشُ وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ وَأَبُو عَمْرِو بْنِ الْعَلاَءِ وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجُ وَقَتَادَةُ وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ وَمُجَاهِدٌ وَحُمَيْدٌ الأَعْرَجُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ‏{‏ لاَ يُعَذِّبُ ‏}‏ ‏{‏ وَلاَ يُوثِقُ ‏}‏ إِلاَّ الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّهُ ‏{‏ يُعَذَّبُ ‏}‏ بِالْفَتْحِ ‏.‏
ابوقلابہ کہتے ہیں: مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا یا ہے کہ «فيومئذ لا يعذب» ( مجہول کے صیغہ کے ساتھ ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے «لا يعذب ‏ولا يوثق‏» صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں «يعذب» ( ذال کے فتحہ کے ساتھ ) ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Daif IsnaadAl-Albani
  • Daif IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • HasanZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 32 · Dialects and Readings of the Qur'an (Kitab Al-Huruf Wa Al-Qira'at)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔