سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 3915

نمبر 3915کتاب 30، نمبر 12
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدٍ - يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ - قَوْلُهُ ‏"‏ هَامَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ كَانَتِ الْجَاهِلِيَّةُ تَقُولُ لَيْسَ أَحَدٌ يَمُوتُ فَيُدْفَنُ إِلاَّ خَرَجَ مِنْ قَبْرِهِ هَامَةٌ ‏.‏ قُلْتُ فَقَوْلُهُ صَفَرَ ‏.‏ قَالَ سَمِعْتُ أَنَّ أَهْلَ الْجَاهِلِيَّةِ يَسْتَشْئِمُونَ بِصَفَرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ سَمِعْنَا مَنْ يَقُولُ هُوَ وَجَعٌ يَأْخُذُ فِي الْبَطْنِ فَكَانُوا يَقُولُونَ هُوَ يُعْدِي فَقَالَ ‏"‏ لاَ صَفَرَ ‏"‏ ‏.‏
بقیہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن راشد سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «هام» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے: جو آدمی مرتا ہے اور دفن کر دیا جاتا ہے تو اس کی روح قبر سے ایک جانور کی شکل میں نکلتی ہے، پھر میں نے پوچھا آپ کے قول «لا صفر» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سنا ہے کہ جاہلیت کے لوگ «صفر» کو منحوس جانتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صفر» میں نحوست نہیں ہے ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو کہتے سنا ہے: «صفر» پیٹ میں ایک قسم کا درد ہے، لوگ کہتے تھے: وہ متعدی ہوتا ہے ( یعنی ایک کو دوسرے سے لگ جاتا ہے ) تو آپ نے فرمایا: «صفر» کوئی چیز نہیں ہے ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih MaqtuAl-Albani
  • Sahih MaqtuMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • Sahih Bukhari (5756) Sahih Muslim (2224)Zubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 30 · Divination and Omens (Kitab Al-Kahanah Wa Al-Tatayyur)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔