نمبر 3888کتاب 29، نمبر 34
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الرَّبَابُ، قَالَتْ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ مَرَرْنَا بِسَيْلٍ فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ فِيهِ فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذْ " . قَالَتْ فَقُلْتُ يَا سَيِّدِي وَالرُّقَى صَالِحَةٌ فَقَالَ " لاَ رُقْيَةَ إِلاَّ فِي نَفْسٍ أَوْ حُمَةٍ أَوْ لَدْغَةٍ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْحُمَةُ مِنَ الْحَيَّاتِ وَمَا يَلْسَعُ .
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ندی پر سے گزرے تو میں نے اس میں غسل کیا، اور بخار لے کر باہر نکلا، اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ابوثابت کو شیطان سے پناہ مانگنے کے لیے کہو ۔ عثمان کی دادی کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: میرے آقا! جھاڑ پھونک بھی تو مفید ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھاڑ پھونک تو صرف نظر بد کے لیے یا سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈنک مارنے کے لیے ہے ( ان کے علاوہ جو بیماریاں ہیں ان میں دوا یا دعا کام آتی ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں:«حمہ» سانپ کے ڈسنے کو کہتے ہیں۔
ماخذ میں درج درجات
- Daif IsnaadAl-Albani
- Daif IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- Isnaad HasanZubair Ali Zai