نمبر 3877کتاب 29، نمبر 23
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ فَقَالَ " عَلاَمَ تَدْغَرْنَ أَوْلاَدَكُنَّ بِهَذَا الْعِلاَقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي بِالْعُودِ الْقُسْطَ .
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بچے کو لے کر آئی، کوا بڑھ جانے کی وجہ سے میں نے اس کے حلق کو دبا دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم اپنے بچوں کے حلق کس لیے دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازماً استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے جس میں ذات الجنب ( نمونیہ ) بھی ہے، کوا بڑھنے پر ناک سے دوا داخل کی جائے، اور ذات الجنب میں «لدود» ۱؎ بنا کر پلایا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «عود» سے مراد «قسط» ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- SahihAl-Albani
- SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- SahihShuaib Al Arnaut
- Sahih Bukhari (5713) Sahih Muslim (2214)Zubair Ali Zai