نمبر 3577کتاب 25، نمبر 7
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الأَنْصَارِيِّ الأَزْرَقِ، قَالَ دَخَلَ رَجُلاَنِ مِنْ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ فَقَالاَ أَلاَ رَجُلٌ يُنَفِّذُ بَيْنَنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ أَنَا . فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ .
عبدالرحمٰن بن بشر انصاری ازرق کہتے ہیں کہ کندہ کے دروازوں سے دو شخص جھگڑتے ہوئے آئے اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقے میں بیٹھے ہوئے تھے، تو ان دونوں نے کہا: کوئی ہے جو ہمارے درمیان فیصلہ کر دے! حلقے میں سے ایک شخص بول پڑا: ہاں، میں فیصلہ کر دوں گا، ابومسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکری لے کر اس کو مارا اور کہا: ٹھہر ( عہد نبوی میں ) قضاء میں جلد بازی کو مکروہ سمجھا جاتا تھا ۱؎۔
ماخذ میں درج درجات
- Daif IsnaadAl-Albani
- Daif IsnaadMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- DaifShuaib Al Arnaut
- DaifZubair Ali Zai