سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 3488

نمبر 3488کتاب 24، نمبر 73
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ، وَخَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَاهُمُ - الْمَعْنَى، - عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ بَرَكَةَ، قَالَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ بَرَكَةَ أَبِي الْوَلِيدِ، ثُمَّ اتَّفَقَا - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسًا عِنْدَ الرُّكْنِ - قَالَ - فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ فَقَالَ ‏"‏ لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ‏"‏ ‏.‏ ثَلاَثًا ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا حَرَّمَ عَلَى قَوْمٍ أَكْلَ شَىْءٍ حَرَّمَ عَلَيْهِمْ ثَمَنَهُ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانِ ‏"‏ رَأَيْتُ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ‏"‏ ‏.‏
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن ( حجر اسود ) کے پاس بیٹھا ہوا دیکھا، آپ نے اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائیں پھر ہنسے اور تین بار فرمایا: اللہ یہود پر لعنت فرمائے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی حرام کی ( تو انہوں نے چربی تو نہ کھائی ) لیکن چربی بیچ کر اس کے پیسے کھائے، اللہ تعالیٰ نے جب کسی قوم پر کسی چیز کے کھانے کو حرام کیا ہے، تو اس قوم پر اس کی قیمت لینے کو بھی حرام کر دیا ہے ۔ خالد بن عبداللہ ( خالد بن عبداللہ طحان ) کی حدیث میں دیکھنے کا ذکر نہیں ہے اور اس میں: «لعن الله اليهود» کے بجائے: «قال ‏ ‏ قاتل الله اليهود» ہے۔
ماخذ میں درج درجات
  • Sahih HadithAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Isnaad SahihZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 24 · Wages (Kitab Al-Ijarah)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔