سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 3448

نمبر 3448کتاب 24، نمبر 33
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَيَّاضِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ لَيْسَ فِي التَّمْرِ حُكْرَةٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ عَنِ الْحَسَنِ فَقُلْنَا لَهُ لاَ تَقُلْ عَنِ الْحَسَنِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا الْحَدِيثُ عِنْدَنَا بَاطِلٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ يَحْتَكِرُ النَّوَى وَالْخَبَطَ وَالْبِزْرَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُونُسَ يَقُولُ سَأَلْتُ سُفْيَانَ عَنْ كَبْسِ الْقَتِّ فَقَالَ كَانُوا يَكْرَهُونَ الْحُكْرَةَ وَسَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ فَقَالَ اكْبِسْهُ ‏.‏
قتادہ کہتے ہیں کھجور میں احتکار ( ذخیرہ اندودزی ) نہیں ہے۔ ابن مثنی کی روایت میں یحییٰ بن فیاض نے یوں کہا «حدثنا همام عن قتادة عن الحسن» محمد بن مثنی کہتے ہیں تو ہم نے ان سے کہا: «عن قتادة» کے بعد «عن الحسن» نہ کہیے ( کیونکہ یہ قول حسن بصری کا نہیں ہے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہمارے نزدیک باطل ہے۔ سعید بن مسیب کھجور کی گٹھلی، جانوروں کے چارے اور بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ اور میں نے احمد بن یونس کو کہتے سنا کہ میں نے سفیان ( ابن سعید ثوری ) سے جانوروں کے چاروں کے روک لینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: لوگ احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کو ناپسند کرتے تھے۔ اور میں نے ابوبکر بن عیاش سے پوچھا تو انہوں نے کہا: روک لو ( کوئی حرج نہیں ہے ) ۔
ماخذ میں درج درجات
  • Daif Isnaad MaqtuAl-Albani
  • Daif Isnaad MaqtuMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • MaqtuShuaib Al Arnaut
  • DaifZubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 24 · Wages (Kitab Al-Ijarah)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔