سیدھے مواد پر جائیں
سنن ابی داؤد

نمبر 3270

نمبر 3270کتاب 22، نمبر 29
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَوْ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ ‏:‏ نَزَلَ بِنَا أَضْيَافٌ لَنَا قَالَ ‏:‏ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَتَحَدَّثُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّيْلِ فَقَالَ ‏:‏ لاَ أَرْجِعَنَّ إِلَيْكَ حَتَّى تَفْرَغَ مِنْ ضِيَافَةِ هَؤُلاَءِ وَمِنْ قِرَاهُمْ فَأَتَاهُمْ بِقِرَاهُمْ فَقَالُوا ‏:‏ لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى يَأْتِيَ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ فَجَاءَ فَقَالَ ‏:‏ مَا فَعَلَ أَضْيَافُكُمْ أَفَرَغْتُمْ مِنْ قِرَاهُمْ قَالُوا ‏:‏ لاَ ‏.‏ قُلْتُ ‏:‏ قَدْ أَتَيْتُهُمْ بِقِرَاهُمْ فَأَبَوْا وَقَالُوا ‏:‏ وَاللَّهِ لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى يَجِيءَ، فَقَالُوا ‏:‏ صَدَقَ قَدْ أَتَانَا بِهِ فَأَبَيْنَا حَتَّى تَجِيءَ، قَالَ ‏:‏ فَمَا مَنَعَكُمْ قَالُوا ‏:‏ مَكَانُكَ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ وَاللَّهِ لاَ أَطْعَمُهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ فَقَالُوا ‏:‏ وَنَحْنُ وَاللَّهِ لاَ نَطْعَمُهُ حَتَّى تَطْعَمَهُ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ مَا رَأَيْتُ فِي الشَّرِّ كَاللَّيْلَةِ قَطُّ - قَالَ - قَرِّبُوا طَعَامَكُمْ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ فَقُرِّبَ طَعَامُهُمْ فَقَالَ ‏:‏ بِسْمِ اللَّهِ فَطَعِمَ وَطَعِمُوا فَأُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَصْبَحَ فَغَدَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي صَنَعَ وَصَنَعُوا، قَالَ ‏:‏ ‏ "‏ بَلْ أَنْتَ أَبَرُّهُمْ وَأَصْدَقُهُمْ ‏"‏ ‏.‏
عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں ہمارے کچھ مہمان آئے، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بات چیت کیا کرتے تھے ( جاتے وقت ) کہہ گئے کہ میں واپس نہیں آ سکوں گا یہاں تک کہ تم اپنے مہمانوں کو کھلا پلا کر فارغ ہو جاؤ ( یعنی میں دیر سے آ سکوں گا تم انہیں کھانا وغیرہ کھلا دینا ) تو وہ ( عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ) ان کا کھانا لے کر آئے تو مہمان کہنے لگے: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آئے بغیر نہیں کھائیں گے، پھر وہ آئے تو پوچھا: کیا ہوا تمہارے مہمانوں کا؟ تم کھانا کھلا کر فارغ ہو گئے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: میں ان کا کھانا لے کر ان کے پاس آیا مگر انہوں نے انکار کیا اور کہا: قسم اللہ کی جب تک وہ ( ابوبکر ) نہیں آ جائیں گے ہم نہیں کھائیں گے، تو ان لوگوں نے کہا: یہ سچ کہہ رہے ہیں، یہ ہمارے پاس کھانا لے کر آئے تھے، لیکن ہم نے ہی انکار کر دیا کہ جب تک آپ نہیں آ جاتے ہیں ہم نہیں کھائیں گے، آپ نے کہا: کس چیز نے تمہیں کھانے سے روکا؟ انہوں نے کہا: آپ کے نہ ہونے نے، انہوں نے کہا: قسم اللہ کی میں تو آج رات کھانا نہیں کھاؤں گا، مہمانوں نے کہا: جب تک آپ نہیں کھائیں گے ہم بھی نہیں کھائیں گے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج جیسی بری رات میں نے کبھی نہ دیکھی، پھر کہا: کھانا لاؤ تو ان کا کھانا لا کر لگا دیا گیا تو انہوں نے «بسم الله» کہہ کر کھانا شروع کر دیا، مہمان بھی کھانے لگے۔ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اطلاع دی گئی کہ صبح اٹھ کر ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، اور جو کچھ انہوں نے اور مہمانوں نے کیا تھا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان لوگوں سے زیادہ قسم کو پورا کرنے والے اور صادق ہو ۔
ماخذ میں درج درجات
  • SahihAl-Albani
  • SahihMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
  • SahihShuaib Al Arnaut
  • Sahih Bukhari (6140) Sahih Muslim (2057)Zubair Ali Zai

ہر روایت کے نیچے ڈیٹا سیٹ کا اپنا ترجمہ ہے، جیسا ہے ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔ اس میں کسی مترجم کا نام درج نہیں، اس کے حقوق کی تصدیق نہیں ہوئی، اور کسی نے اسے عربی سے ملا کر نہیں جانچا؛ بعض روایات کا کوئی ترجمہ نہیں۔ اصل متن عربی ہے۔

کتاب 22 · Oaths and Vows (Kitab Al-Aiman Wa Al-Nudhur)

عربی متن، نمبر شمار، کتابوں کے نام اور درجات بالکل ویسے ہی دکھائے گئے ہیں جیسے وہ ایک کھلے ڈیٹا سیٹ (hadith-api) میں درج ہیں۔ سبیل نے ابھی نہ اس کی درستی کی تصدیق کی ہے نہ اس کے حقوق کی، اور اس کا علمی جائزہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس وقت تک کسی روایت پر اعتماد کرنے سے پہلے اسے کسی مطبوعہ نسخے سے ملا لیں۔