نمبر 3051کتاب 20، نمبر 124
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ ثَقِيفٍ عَنْ رَجُلٍ، مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ " . قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ " فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ " . ثُمَّ اتَّفَقَا " فَلاَ تُصِيبُوا مِنْهُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ لَكُمْ " .
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ تو وہ تمہیں مال ( جزیہ ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں ۔ سعید کی روایت میں ہے: «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر ( مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر ) متفق ہو گئے کہ: جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔
ماخذ میں درج درجات
- DaifAl-Albani
- DaifMuhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamid
- DaifZubair Ali Zai